دوست کی بہن کو اچانک سانس میں تکلیف ہوئی اور وہ مر گئی پھر ۔۔ اپنی قیمتی گاڑی اور سونا بیچ کر لوگوں کی مدد کرنے والے بھارتی نوجوان کی رُلا دینے والی کہانی

By Hamari Web

انسانیت کی خدمت کرنے والے لوگ اب اس دنیا میں کم ہی نظر آتے ہیں لیکن جب سے بھارت میں کورونا کا طوفان برپا ہوا، ہر شخص مذہب و زبان کی دوڑ سے نکل کر انسانیت کی خدمت کا درس دیتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت میں جہاں جگہ جگہ انسانی جانیں بکھری پڑی ہیں، لوگ جانوں کی بازی محض اس لئے ہار رہے ہیں کیونکہ آکسیجن کی فراہمی نہیں ہے، ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے، لاشوں کی آخری رسومات کے خوفناک منظر نے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے

وہیں خُدا نے کچھ ایسے خدمت گزار اور انسانیت پسند لوگوں کو فرشتہ بنا کر لوگوں کے لئے ذریعہ بنا دیا ہے جو خود کی جان ی پرواہ کیئے بغیر دوسروں کے لئے زبردست رشتہِ انسانیت کی ادائیگی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک انسان دوست شخص شاہنواز کی کہانی ہم آج آپ کو ہماری ویب میں بتانے جا رہے ہیں:

32 سالہ شاہنواز کا جذبہ ہمدردی:

شاہنواز نے ایسا کیا کام کیا؟

شاہنواز نے اپنی قیمتی ایس یو وی گاڑی اور سونا بیچ دیا، اس کے عوض وہ بھارت میں لوگوں کو آکسیجن اور طبی امداد کے ساتھ ساتھ کھانا اور راشن فراہم کر رہے ہیں۔ ان کو بھارت کا آکسیجن مین کہا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے طور پر ہر کسی کو آکسیجن اور امداد فراہم کرنے کی مکمل کوشش کی ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ شاہنواز کہتے ہیں کہ:

” جو لوگ جان سے گئے ان کو تو بچا نہ سکا، مگر میری کوشش ہے کہ میں ہر اس شخص کو بچا لوں جو آکیسجن کی کمی سے مر رہا ہے۔ غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد سے بڑھ کر میرے لئے کھ بھی نہیں ہے، سڑکوں پر میری مائیں اور بہنیں، بھائی اور بزرگ تڑپ رہے ہیں، میرا خُدا مجھ سے قیامت کے روز سوال لازمی کرے گا اس لئے میں نے اپنی قیمتی گاڑی اور سونا بھی بیچ دیا تاکہ ضرورتمندوں کو ان کا حق دے سکوں، جب پہلی بار لاک ڈاؤن لگا جب روز مرہ آمدنی پر زندگی گزارنے والوں کے لیے دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ ہمارے پاس جو بھی پیسے تھے، ان سے ہم نے لوگوں کی مدد کرنا شروع کی۔ انہیں راشن دینا شروع کیا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ لوگ کیسے اپنے پیاروں کو ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں، جو لوگ سڑکوں پر بیٹھے تھے، ہم نے ان لوگوں کے ناشتے اور کھانے کا انتظام کیا۔‘

شاہنواز مذید کہتے ہیں کہ:

” میری امید ہے کہ میں اپنی زندگی کا حق ادا ضرور کروں گا، مجھے ڈر نہیں لگتا، اگر میں اس کام کو انجام دیتے ہوئے مر بھی گیا تو مجھے اس کا غم نہیں ہوگا اور نہ میرے اہلِ خانہ کو کیونکہ زندگی مقصد لوگوں کے کام آنا ہے۔”

شاہنواز نے لوگوں کی مدد کا فیصلہ کب کیا؟

” لوگوں کی مدد کا فیصلہ میں نے اس وقت کیا جب کہ میرے دوست کی 27 سالہ جوان بہن ماں بننے والی تھی، اس کو سانس لینے میں تکلیف ہوئی، آکسیجن کی کمی ہوئی، ہسپتال کے کر گئے، وہاں پہنچ ہی گئے کہ دورازے پر معصوم جانوں نے دم توڑ دیا، جس کو سن کر میرے پاؤں تلے زمین کھسک گئی ، اس دن میرا ضمیر مجھ سے ملامت کرنے لگا اور یوں میں نے لوگوں کی مدد کرنے کا اہم فیصلہ لے لیا”

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments