ماہ مقدس

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خوشنودی، رحمت اور بخشش کا پیغام لیکر آتا ہے. بدقسمتی سے امت مسلمہ اس ماہ مقدس کو ناجائز منافع خوری کا بہترین ذریعہ تصور کرتی ہے. اس نے سال بھر میں جن اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کی ہوتی ہے. وہ انتہائی مہنگے داموں اس ماہ مقدس میں فروخت کرکے پورے سال کا منافع کماتی ہے. ان پر کورونا جیسی وباء نازل نہ ہو تو اور کیا ہو. ہم لوگ تو صرف اور صرف نام کے مسلمان ہیں. ہمارا کوئی فعل بھی ایسا نہیں جس پر ہم فخر سے کہہ سکے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوگا. یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم امت محمدی ہے. اسی نسبت سے ہم پر اب تک عذاب الہی نازل نہیں ہو رہا. ورنہ اپنے اعمال کی بدولت ہم کب کے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوتے. اللہ بارک تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام اس دنیا میں بھیجے. ان تمام انبیاء کرام کو ایک ہی وقت میں دنیا میں نہیں بھیجا گیا. ہزاروں سال تک انسان کی رشد وہدایت کا سلسلہ جاری رکھا گیا. اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اورصالح بندوں کے ذریعہ سے انسان کو جس جس کام سے منع فرمایا. یہ آج بھی انہیں افعال کو سر انجام دینے میں مگن ہے. آج بھی یہ زنا، شراب نوشی، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، بہتان تراشی جیسی لعنتوں میں گرفتار ہیں. اس نے اللہ تعالیٰ کے تمام ارشادات کو بھلا دیا ہے. یا شاید یہ لوگ عذاب الہی سے بے فکر ہو چکے ہیں. کبھی انسان نے سوچا ہے.کہ اس کی پریشانیوں کا سبب کیا چیز ہے. کیوں اسے قلبی سکون حاصل نہیں ہوتا. یہ دن رات دو وقت کی روٹی کی تلاش میں کیوں ذلیل و خوار ہوتا پھرتا ہے. اس کی وجہ احکام الہی سے روح گردانی ہے. جب اللہ تعالیٰ نے انسان سے وعدہ کیا ہے. کہ میں تمھیں بھوکا نہیں سونے دو گا تو پھر ہم رزق ذخیرہ کرنے کی فکر میں کیوں لگے رہتے ہیں. اگر ہم اس رزق کو ذخیرہ کرنے کی بجائے مستحقین تک ایمانداری سے پہنچانا شروع کر دے. تو یقین جانے اس دنیا میں کوئی شخص غریب نہیں رہے گا. مگر ہم اپنی عقل پر اعتبار کرتے ہوئے. سال بھر کے لیے گندم و دیگر زرعی اجناس گھروں میں جمع کر لیتے ہیں. جس سے ہمارے رزق میں برکت ختم ہو جاتی ہے. اللہ کی حکمت کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں. اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی مدد کے لیے پیدا کیا ہے. مگر یہی انسان ایک دوسرے کا دشمن بن بیٹھا ہے. یہ فرقوں، مذاہب میں تقسیم ہو چکا ہے. ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کے چکر میں دن رات لگا رہتا ہے. اسے کیا معلوم کہ جیسے وہ کافر کہہ رہا ہے. اللہ کو اس کی کون سی ادا پسند آ جائے اور وہ بخشش کا مستحق قرار پا جائے. انسان کی معصومیت دیکھے. کہ وہ اینٹوں اور سمینٹ کی بنی ہوئی مسجدوں میں تو اللہ کو تلاش کرتا ہے. مگر اس کے ہاتھوں تخلیق کیے گئے انسانوں کے دلوں میں اسے تلاش نہیں کرتا. آج کتنے ہی روزہ دار ہیں. جو محض بھوک پیاس برداشت کرکے دنیا کو باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ نیک اور پارسا ہیں. مگر اللہ کو ان کی بھوک پیاس کی قطعی ضرورت نہیں. کاش یہ لوگ ریاکاری اور دکھاوے کا بھوکا پیاسا رہنے کی بجائے. کسی بھوکے شخص کو پیٹ بھر کے کھانا کھالا دیتے. تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا. ماہ رمضان مقدس کا تو مقصد ہی غریب اور نادارلوگوں کی بھوک پیاس کی شدت کو برداشت کرنا ہے. تاکہ قوم کے مالدار لوگ اس طبقہ کو درپیش مشکلات سے بخوبی واقف ہو سکے. ہمارے علماء کرام نے آسان سے دین اسلام کو مشکل ترین بنا دیا ہے. ہم لوگ پی ایچ ڈی، انجنئیرنگ، ڈاکٹری پڑھ لیتے ہیں. مگر قرآن کریم کو سمجھ کر نہیں پڑھتے. اس کے لیے کسی قاری سے رابطہ کرتے ہیں. کہ اس دنیاوی مسئلے کے بارے میں دین اسلام کیا کہتا ہے. کیا ہم خود سے قرآن کریم میں اس کا حل تلاش نہیں کر سکتے. گھروں میں قرآن کریم پڑا ہے. لوگوں سےپوچھ کر دیکھ لیں. کہ اس رمضان المبارک میں کتنی مرتبہ خاتم قرآن پاک کیا. تو وہ کہے گے . الحمد اللہ پانچ بار یا دس بار اس سے پوچھے کہ کیا سمجھ آئی. اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں کیا فرماتا ہے؟ تو وہ کہے گے. یہ تو ہمیں نہیں پتہ.تو آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ دیکھاوے کی عبادت کرنا چھوڑے. اور احکام الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے. تبھی یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے گی. ایک ایک علاقہ اور گاؤں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تین تین مساجد تعمیر کی گئی ہیں. کیا ان میں عبادت مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے. کیا سب مساجد میں ایک اللہ کی عبادت نہیں کی جاتی. مساجد کی تعمیر کے لیے اہلیان علاقہ چندہ جمع کر لیتے ہیں
مگر کسی غریب کی بچی کی شادی، کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کی ہمت نہیں رکھتے. عبادت گاہ تو ایک ہی بہت ہے. اس علاقہ کی غریب نادار بچیوں کی شادیاں کی جائے. بیماروں کو دوا لیکر دے. یہ ہے انسانیت. اپنے ناکردہ گناہوں کا الزام حکمرانوں پر مسلط نہ کیا جائے. جب ہم لوگ بحیثیت قوم منافع خوری، ذخیرہ اندوزی جیسی لعنتوں سے توبہ نہیں کر لیتے. اس وقت تک حکمران کیا کر لے گے. خدارا اس ماہ مقدس کے حقیقی ثمرات کو جاننے کی کوشش کرے. اور ان پر عمل کرکے خود بھی ایک سچا مسلمان بنے اور اپنے ساتھ ساتھ اس دنیا کو جنت الفردوس بنا دیں. کوئی شخص بھوکا نہ سو پائے. ناجائز منافع خوری سے توبہ کریں. اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ خیرات کرتے ہوئے اس بات کا خصوصی طور پر اہتمام کرے کہ وہ مستحق افراد تک پہنچ سکے. اللہ تعالیٰ نے انسان کی بخشش کے ہزار وسیلے بنائے ہیں. بس ہم لوگ ہی انہیں تلاش نہیں کر پاتے. اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ امان میں رکھے. اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو.
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے.

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments