نبی کریم ﷺ کا پہلا معرکہ حق و باطل (غزوہ بدر) اور اللہ کی مدد

تحریر۔مولانا محمد اکرم اعوان

حضور اکرم ﷺ کی مدنی حیات مبارکہ میں چوراسی کے قریب غزوات و سرایہ ہیں۔غزوات ان اسفار کو کہا گیا ہے جن کی قیادت خود حضور اکرم ﷺ نے کی اور سریہ کی جمع سرایہ ہے۔ سرایہ ان کو کہا گیا ہے جن کی قیادت حضور اکرم ﷺ نے کسی خادم کے سپرد فرمائی۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے یہ چوراسی غزوات و سرایہ چوراسی جنگیں نہیں ہیں۔ جب بھی حضور اکرم ﷺ مدینہ سے باہرتشریف لے گئے اسے غزوہ کہا گیا۔ جب بھی آپ ﷺ نے باہر جانے کی ذمہ داری کسی اور کی لگائی اسے سریہ کہا گیا خواہ وہ سفر دیکھ بھال کے لیے تھا،حفاظت کے لیے تھا،کافروں کی فوجوں کی نقل وحرکت کو دیکھنے کے لیے تھا۔تو جو سفر بھی مسلح ہوکر مدینہ منورہ سے باہر کیے گئے ان سب کو غزوات یا سرایہ کا نام دیا گیا۔لہٰذا یہ چوراسی جنگیں نہیں ہیں۔جہاد ہیں جن کی تعداد بہت کم ہے۔ جن میں سب سے پہلا جہاد غزوہ بدر ہے، پھر احد ہے، خندق ہے،یہ جہاد ہیں جیسے غزوہ حنین ہے، فتح مکہ ہے،فتح خیبر ہے یا یہود کے قبائل کا گھراؤ کیا گیا یعنی جسے جنگ کہا جائے وہ چھ، سات یا آٹھ مقابلے ہیں۔
یہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا اور تلوار کے زور سے پھیلا انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اور اسلام نے کسی قوم،کسی قبیلے،کسی ملک پر چڑھائی نہیں کی۔جتنی جنگیں عہد نبویﷺ میں ہوئیں،عہد صحابہ ؓ میں ہوئیں،عہد خلفائے راشدین ؓمیں ہوئیں۔جوابی جنگیں تھیں۔ جس ملک سے مملکت اسلامی کو خطرہ محسوس ہوا، بجائے اس کے کہ دشمن گھر آکر لڑے۔مسلمان خود اس کے گھر جا کر لڑیں اور یہ ایک کامیاب جنگی طریقہ ہے کہ آپ اپنے صحن کو میدان جنگ نہیں بننے دیتے بلکہ جنگ کو دشمن کے صحن میں لے جاتے ہیں۔ یہ ایک کامیا ب جنگی چال ہوتی ہے اور یہ بڑی مشکل ہے۔ ہر کوئی ایسا نہیں کرسکتا۔تو یہ جنگی حکمت عملی مسلمانوں کی تھی اور سب سے پہلا جہاد جسے بدر کہتے ہیں اس کا سبب یہ بنا کہ اہل مکہ کو مدینہ کے یہودیوں، منافقین خصوصاًعبداللہ ابن ابی کی طرف سے یہ اطلاعات پہنچیں کہ آپ نے تو مسلمانوں کو گھروں سے نکال دیا تھا۔ آپ یہ سمجھے تھے کہ یہ بات ختم ہو گئی لیکن وہ تو مدینہ منورہ میں بس گئے ہیں اوراس طرح سے پھیلنے لگے کہ اب تو پورے جزیرہ نما عرب میں ان کی بات سنی جانے لگی ہے۔ بلکہ یہ تو پوری دنیا میں بات پھیلانا چاہ رہے ہیں۔ اس کا سد باب کیا جائے۔اس کے لئے انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ جتنا سرمایہ کسی کے پاس ہے اسے تجارت پر لگایا جائے۔ اس کے لئے چھوٹی، چھوٹی بچیوں کے کانوں سے بالیاں تک اتارلی گئیں۔ کروڑوں کا سرمایہ اس عہد میں جمع کیا اور ایک تجارتی قافلہ شام کو بھیجا کہ اس سے جتنا منافع آئے گا وہ کسی کو نہیں ملے گا۔وہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لئے خرچ کیاجائے گا۔وہ قافلہ اپنی کامیاب تجارت کرکے واپس ہوا۔ حضور اکرم ﷺ کے پاس اطلاع پہنچ چکی تھی۔اس قافلے نے بدر کے پاس سے گزرنا تھا۔شام سے آتے ہوئے بدر سے گزر کر مکہ مکرمہ جانا تھا تو حضور ﷺکو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ آپ باہر نکل کر ان کفار کا راستہ روکیں،اسی لئے سورۃ الانفال آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے جس طرح آپ ﷺ کو اپنے گھر سے غزوہ بدر کے لئے نکالا۔وہ عین انصاف تھا۔اس سے پہلے کہ قاتل تیاری کر کے، مال اسباب لے کر،مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو قتل عام کرنے، چڑھ دوڑیں، ان کو روکا جائے۔اس سبب کو روکنا عین انصاف تھا،عین حق تھا۔سو فرمایا جس طرح آپ کے پروردگار نے، آپ ﷺ کو، آپ کے گھر سے، حق کی تدبیر کے ساتھ، انصاف کو زندہ رکھنے کے لئے، مظلوموں کی حفاظت کے لئے، ظالموں کی قوت توڑنے کے لئے، آپ کے دولت کدے سے نکالا اور(الانفال:5)مومنوں کی ایک جماعت ایسی تھی جو اسے گراں سمجھتی تھی، انہیں یہ پسند نہیں تھا۔ صحابہ کرامؓ کے اس جملے پرلوگو ں نے بڑ ے اعتراض کئے ہیں کہ جب حضورﷺ نے فرمایا، جنگ ہو گی تو یہ جان بچاتے تھے۔ یا معاذاللہ، ڈرتے تھے، یہ تھا، وہ تھا،یہ ساری باتیں فضول ہیں۔ جن لوگوں نے پسند نہیں فرمایا۔ان کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو لے کر اہل مکہ کے مقابلے میں چلے گئے تو وہ ایک بڑا لشکر لے آئیں گے۔جو مسلح بھی ہو گا،وہ لوگ جنگجو بھی ہوں گے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہو گی۔ ایسا نہ ہو کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی کو نقصان پہنچ جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ مشن محمدیﷺ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے کائنات کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ یہ مشن یہیں ٹھپ ہوجائے گا۔اور اس رائے کی تائید نبی کریم ﷺ نے خودبدر میں دعا فرماتے ہوئے فرمائی۔فرمایا،یااللہ اگر یہ لوگ آج یہاں مارے گئے تو قیامت تک کوئی تیرا نام لینے والا نہیں ہوگا او کما قال رسول اللہ ﷺ۔حضور ﷺ نے دعا میں فرمایا کہ اے اللہ میں سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں اور اگر یہ لوگ یہاں کھیت رہے تو پھر قیامت تک دنیا میں تیرا کوئی نام لیوا نہیں ہو گا۔جن لوگوں کو اللہ کا رسولﷺ جو وحی الہٰی کے بغیر لب مبارک نہیں کھولتا۔وہی زبان حق ترجمان جب صحابہ کرامؓ کو سارے کا سارا اسلام کہہ رہی ہے تو پھر کسی کی رائے کو کوئی اہمیت ہے؟کسی کے کچھ کہنے کی گنجائش ہے؟کسی نے خوب لکھا ہے کہ کسی کا کوئی محبوب ہوکسی کو کسی سے حقیقی محبت ہو اور اس کی جان کوخطرہ ہو اور وہ اسے وہاں جانے سے روکے کہ وہاں جاؤ گے۔ تو تمہیں خطرہ ہے۔کاش ان معترضین کا کوئی محبوب ہوتا،اس کی جان کو خطرہ ہوتا پھر انہیں وہ کیفیت سمجھ آتی کہ صحابہ کرام ؓ کیوں اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے؟کہ مبادا ایسا نہ ہو کہ حضور عالی ﷺ کو کوئی گزند پہنچ جائے اگر آپ ﷺ شہید ہوجاتے ہیں تو یہ مشن یہیں ختم ہو جائے گا۔ جس کے لئے ہجرت کی گئی۔ جس کے لئے تکالیف اٹھائی گئیں۔ جس کے لئے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں جہاں بھر کے دکھ برداشت کئے۔ وہ تووہیں ختم ہوجائے گااور اس سارے کا کیا حاصل؟ حتیٰ کہ(الانفال 6) ان صحابہ کرام ؓ نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا اہل مکہ کے مقابلے میں کھلے میدان میں جانا کھلی آنکھوں موت میں جانے کے مترداف ہے تو حضور اکرم ﷺ سے وہ عرض کرتے تھے کہ اے حبیب کبریا ﷺیہ خطرہ مول نہ لیا جائے۔ آپ ﷺ تشریف نہ لے جائیں۔ یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ آپ جائیں گے تو میں گھر بیٹھوں گا۔ بلکہ کچھ ایسے بچے بھی شامل تھے جن میں دو بدر میں شہید بھی ہوئے۔ایک غازی بنا۔ جس بچے کو حضور ﷺ نے فرمایا تمہاری ابھی مسیں بھی نہیں بھیگیں، تمہاری عمر کم ہے۔ تمہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتا تو وہ رو پڑاا ور اتنے دردناک طریقے سے رویا کہ حضور ﷺ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے، تمہیں اجازت ہے،آ جاؤ۔دوسرا آیا،آپ نے منع فرمایا۔ اس نے بڑا اصرار کیا، بڑی منتیں کیں۔اللہ کے رسول ﷺ مجھ پر کرم فرمائیں۔ اس کے والد نے اسے روکا، اس نے والد سے کہا کہ ابا جان! آپ مجھے جنت میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ کیوں مجھے جنت کے راستے سے روکتے ہیں؟ حضور ﷺ نے اسے بھی اجازت دے دی۔ جب تیسرا آیا تو وہ ان دونوں سے ذرا کمزور تھا۔ اس نے بھی اصرار کیاتو حضور ﷺ نے اسے اجازت نہیں دی۔اس نے عرض کی یا رسول للہ ﷺ یہ،جسے آپ نے اجازت د ی ہے، میں اسے کشتی میں بچھاڑسکتاہوں۔ میں اس سے تکڑا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا،اچھا کُشتی کرو۔ جب وہ کُشتی کرنے لگے تواس نے اس کے کان میں کہا، میں جانتا ہوں تو مجھ سے تکڑا ہے لیکن مجھے گرانا نہیں، مجھ سے گر جانا کہ مجھے بھی جہاد پرجانے کی اجازت مل جائے۔ یعنی ذوق شہاد ت کا یہ عالم تھا کہ بچے، نو عمر،جوان سب ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لینے کے خواہش مند تھے اور پھر انہی دو بچوں نے ابو جہل کو قتل کیا۔ان میں سے ایک خود بھی شہید ہوگیا، دوسرا غازی بنا۔ یہی ابوجہل کے قاتل تھے۔میدان بدر میں انہوں نے ایک صحابیؓ سے پوچھا چیچا جان ابو جہل کون ہے؟ سنا ہے وہ نبی کریمﷺ کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بھتیجو تم ابوجہل کو جان کر کیا کرو گے؟ کہنے لگے ہم مقابلہ کریں گے، دیکھیں گے کہاں تک جاتا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں، میں حیران ہو گیا۔ یہ نو عمر بچے ہیں۔ بارہ،چودہ،پندرہ،پندرہ سال کے کیا کریں گے؟ ابوجہل ایک شاطر جنگجو،پرانا جرنیل ہے۔ لیکن تب تک ابو جہل گھوڑے پہ نظر آیا تو میں نے انہیں دکھایا کہ و ہ ابو جہل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ باز کی طرح اس پر جھپٹے اس سے لڑے، ان میں سے ایک شہید ہوگیا۔ لیکن ان دونوں نے اسے مار گرایا۔
صحابہ کرامؓ کی بحث اس بات پر تھی کہ مسلمان اہل مکہ کے مقابلے پربے سروسامانی کی حالت میں تھے کہ کُل افرادی قوت 313 مجاہد تیار ہوسکے، ستر سواریاں،آٹھ زرہیں اور گیارہ تلواریں، یہ اسلحہ تھا۔ صبح شام کا راشن، پانچ پانچ کھجوریں فی کس ملتی تھیں۔ یہ جنگ رمضان المبارک میں ہوئی اور حضور ﷺ نے جنگ کے دن افطاری کا حکم دیا کہ آج روزہ نہ رکھو۔ جو شہید ہوگیا، وہ جنت میں جائے گا۔ جو غازی بنا،وہ بعد میں قضا کرے گا لیکن آج عین دوران جنگ روزہ نہ رکھے۔ حضورﷺ نے رخصت دے دی تو پانچ پانچ کھجوریں صحابہ ؓمیں تقسیم کی گئیں۔ ایک نوجوان صحابیؓ کو صف بندی کے وقت جب کھجوریں دی گئیں تو اس نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آج میں مارا گیا توکیا جنت جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایابے شک تو اعلیٰ درجے کا شہید ہو گا اورجنت جائے گا تو اس نے وہ کھجور یں پھینک دیں۔ اس نے کہا پھر وہیں جا کر بھوک مٹائیں گے،ان کھجوروں سے ہی ساری عمر پیٹ بھرا ہے،جنت میں جا کر کھانا کھائیں گے اور واقعی بدر میں وہ شہید بھی ہوگیا۔
یعنی یہ مقابلہ کسی سبب سے،نہ مادی قوت سے، نہ اسلحہ سے کسی طرح سے مقابلہ نہیں بنتا بلکہ یہ سیدھا سیدھا کھلی آنکھوں موت کے مونہہ میں جانے کے مترادف ہے۔اور اگر حضورﷺ فرماتے، میں مدینہ منورہ میں رہتا ہوں۔ تم جاؤ تو کوئی بھی مشورہ نہ کرتا۔ جب اس مشورہ پر اصرار ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اثنائے سفر میں مہاجر و انصار کو جمع کر کے خطاب فرمایا، لوگو! میں اپنی مرضی سے نہیں نکلا۔مجھے وحی الہٰی سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس مقابلے کے لئے نکلوں۔ جب حضورﷺ نے یہ فرمایا اور پوچھا کہ اب تمہارا کیا مشورہ ہے؟ سب سے پہلے مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر صدیق ؓ بولے پھر فاروق اعظم ؓ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جب اللہ کا حکم ہے بات ختم ہو گئی۔ مشورہ کس بات کا؟ مشورہ تو تب ہے کہ آپ ﷺ مشورہ طلب فرمائیں فیصلہ مشورے سے کرنا ہو۔جب اللہ کا حکم ہے تو بات ختم ہو گئی،مشورہ کس بات کا، ہم آپ کے خادم، آپ کے ہمرکاب ہیں۔ حضورﷺ نے انصار سے پوچھا،ایک انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح نہیں کہیں گے کہ آپ جائیں،آپ اور آپ کا پروردگار لڑیں (المائدہ: 24) ہم یہاں بیٹھے ہیں،یہ جملہ ہم نہیں کہیں گے۔آپ جہاں جائیں گے، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اورآپ کے حکم پر عمل پیرا رہیں گے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے سردار تھے،وہ کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ، جب ہم آپ پر ایمان لائے تو ہمیں یہ روز روشن کی طرح واضح تھا کہ دنیا کا سارا کفر ہمارے خلاف ہو جائے گا۔ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں آپ اگر سمندر میں گھوڑے دوڑا دیں تو ہمیں آپ ہمرکاب پائیں گے۔ آپ جہاں تک چلے جائیں گے، آپ سے پہلے ہم آپ کے ساتھ جائیں گے،جہاں آپ ہوں گے،آپ سے پہلے ہم اپنی جان پیش کریں گے، مشورے کی بات گزر گئی، جب اللہ کا حکم ہے،مشورہ ختم ہوگیا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا جماعتیں دو ہو گئیں ہیں۔

قافلے والوں کو بھی یہ سن گن پہنچ گئی کہ مسلمان مدینے سے نکل پڑے ہیں تو وہ میدان بدر کو چھوڑ کر، بدر سے مغرب کی طرف پہاڑیاں ہیں،جن کے سامنے میدان بدر ہے، ان پہاڑیوں کے پیچھے، قریب ہی سمندر ہے تو وہ ساحل سمندر کے محفوظ راستے کی طرف ہو گئے اور ایک تیز رفتار قاصد کو مکہ مکرمہ روانہ کردیا۔ اس نے مشرکین مکہ کو کہا کہ قافلے کو بڑا خطرہ ہے تو مشرکین مکہ بڑے کروفر سے تیار ہوئے۔انہوں نے ایک ہزار کا لشکر جرار تیار کیا جو بڑے مانے ہوئے جنگجوجوان تھے اور بڑے بڑے قریش کے سردار اور جرنیل بھی ساتھ ہو گئے۔ایک ہزار کا لشکر جرار، بے شمار اسلحہ،گھوڑے،اونٹ، کھانے کے لے خوراک،سارا انتظام کرکے نکل پڑے۔مسلمانوں کو بھی خبر ہو گئی کہ لشکر مکہ سے بھی آرہا ہے تو حضورﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دو میں سے ایک لشکر پر آپ کو فتح دوں گا۔تب بھی صحابہ کرامؓ کا یہ خیال تھا کہ قافلہ ہاتھ آجائے جو کم مسلح ہے، وہ قافلہ بھی غیر مسلح تو نہیں تھا، ستر مسلح افراد اس کی حفاظت کے لیے ساتھ تھے۔ ستر سے صحابہؓ کی عددی قوت زیادہ تھی تو صحابہ ؓ کا دل یہ چاہتا تھا۔فرمایا تم چاہتے تھے جو بغیر اسلحہ کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آ جائے۔ٖ لیکن اللہ جل شانہ یہ چاہتے تھے کہ حق کو اپنے فرمان سے قائم کر دیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ حق ہی غالب ہوتا ہے اور باطل مغلوب ہوتا ہے خواہ اس کے پاس کتنے ہی وسائل ہوں، دنیاوی اسباب ہوں، شان وشوکت ہو، لیکن فتح حق کی ہوتی ہے۔ اللہ یہ بات ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔(الانفال: 7)اور اللہ یہ چاہتا تھے کہ کافروں کی جڑ ہی کاٹ دیں۔ان کا جو زعم ہے اور جس طرح یہ تکبر میں مبتلا ہیں۔ان کو ایسا ذلیل کیا جائے کہ ان کے دعویٰ کی جڑ ہی کٹ جائے اور پوری دنیا دیکھ لے کہ حق کس کے ساتھ ہے؟تا کہ لوگوں کو دین نصیب ہو،اسلام نصیب ہو،لوگ اسلام کی طرف مائل ہوں۔تفاسیر میں ملتا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک ایک کافر کے قتل کی جگہ دکھا دی کہ یہاں فلاں کافر قتل ہوگا،یہاں فلاں کافر قتل ہو گا،یہاں فلاں سردار ماراجائے گا،اس جگہ فلاں شخص قتل ہو گا اورجنگ کے بعد صحابہ ؓنے دیکھا کہ ان کے لاشے انہی جگہوں پر پڑے تھے جن کی حضور ﷺ نے باذن الہٰی خبر دی تھی کہ آپ کو فتح ہو گی اور مکہ کے چیدہ چیدہ جوان، شہسواراور سرداروں میں سے ستر مارے گئے اور ستر مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ایک قاصد مکہ مکرمہ اس شکست کی خبر لے کر گیا۔اس نے عربوں کے جاہلیت کے رواج کے مطابق اپنی قمیض کو الٹا کر کے پہنا،اپنی قمیض کا گریبان پھاڑ دیا، اپنی سانڈنی کے ناک کو چیر دیا اور الٹی طرف یعنی پیچھے کی طرف مونہہ کرکے سواری پر بیٹھ گیا۔شہر میں داخل ہونے سے پہلے بڑا شور کیا کہ مکہ والوں تم برباد ہو گئے۔ فلاں بھی مارا گیا،فلاں بھی مارا گیا، فلاں بھی مارا گیا۔ ستر نام تو اس نے مرنے والوں کے گنے،ستر قیدیوں کے گنے تو پورے مکہ مکرمہ میں کہرام مچ گیا۔ کوئی گھر ایسا نہیں تھا، جہاں سے شور نہیں اٹھا۔فرمایا جب اللہ نے آپ سے وعدہ کر دیا کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے ہاتھ آجائے گی تو آپ لوگ چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح یا کمزور جماعت ہے یعنی قافلے والے ہیں،وہ ہاتھ لگیں۔ لیکن اللہ کریم چاہتے تھے کہ حق کو اپنے فرمان سے غالب کریں اور باطل کا باطل ہونا عملاً ثابت فرما دیں۔(الانفال:8)خواہ آپ کے دشمن اس سے ناخوش ہی ہوں۔خواہ مجرموں کو اس سے دکھ ہی ہو،خواہ نافرمانوں کو یہ بات پسند نہ آئے اور یہ عجیب بات ہے کہ 313 بندے جن کے پاس کل ستر سواریاں ہیں،آٹھ زرہیں اور گیارہ تلواریں ہیں۔ وہ ایک لشکر جرار کے ساتھ جو آزمودہ کار جنگجوؤں کاہے،جن کے پاس اسلحہ بھی وافر ہے،راشن بھی وافر ہے۔ کس طرح لڑی؟
عریش بدر وہ مقام ہے، جہاں عارضی سا سایہ بنا دیا گیا تھاوہاں حضور ﷺ نے دعا فرمائی تھی۔ آج اس مقام پر مسجد بنا دی گئی ہے۔ وہاں آپﷺ دعا فرما رہے تھے حتی کہ دوش مبارک سے ایک طرف سے چادر مبارک گر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ خدمت عالی میں حاضر تھے۔ آپ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے اللہ نے آپ کی دعا سن لی ہے،آپ اس قدر الحاح و زاری نہ کریں،اب بس کردیں (الانفال: 9)جب آپ ﷺ اپنے پروردگار سے دعا فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ دعا مومن کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور ہرکام کے لئے دعا کرنی چاہئے لیکن ایک بات یاد رکھیں صرف دعا سے کام نہیں ہوتا۔ دعا کرنے کا طریقہ وہ ہے جو نبی کریم ﷺنے بتا دیا کہ جو تین سو تیرہ خدام میسر تھے انہیں لیا،سواری کے جو اسباب میسر تھے وہ لئے، جتنا اسلحہ میسر تھا وہ لیا، 150 کلومیٹر مدینہ سے چل کر مقام بدر میں تشریف لائے، وہاں اعلیٰ مقام منتخب کیا،پانی کے چشمہ پر قبضہ فرمایا پھر بدر کے دن ان 313 کو صف آرا کیا۔ حضور ﷺ کے دست اقدس میں چھڑی تھی جس سے آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے پوری صف بندی خود حضورﷺ نے کرائی۔سارے اسباب مکمل کر کے عریش بدر میں تشریف لے گئے کہ اللہ کی مدد سے کام ہوگا،دعاسے ہوگا تو دعاکا مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ کام کرنا چھوڑ دے اور بیٹھا دعا کرتا رہے۔لیکن پوری دیانتداری سے پوری محنت کرکے کام کریں یہی طریقہ حضور ﷺ نے تعلیم فرمایا کہ اسباب پورے فرما کر عریش بدر میں جب آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔اللہ نے فرمایا میں نے قبول کرلی (الانفال 9)فرمایا اب میں آپ کے لیے اورآپ کے خدام کے لیے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں،جو صف در صف ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں،صف در صف،اسے فوجی زبان میں کہتے ہیں (Formation)میں چلے آتے ہوں گے۔چار چار،پانچ پانچ کی ٹولیاں بنا کر جس طرح فوجی آگے پیچھے چلتے ہیں اسے (Formation) کہتے ہیں۔بارالہٰا!فرشتے تو تیری وہ مخلوق ہے، ایک ایک فرشتے نے زمین کے تختے الٹ دئیے۔ ایک ایک فرشتے نے قوموں کی قوموں کو تباہ کردیا۔ ایک ایک فرشتے نے پہاڑوں کو اُلٹ دیا تو یہاں ایک ہزار فرشتے کیا کریں گے؟ فرمایا میں جب عذاب بھیجتا ہوں تو ایک فرشتے کوبھی حکم دوں تو وہ ان کے لیے کافی ہے لیکن یہ تو میرا نبی ﷺ دعا مانگ رہا ہے، مانگنے والے کا مقام بھی تو دیکھو،کام ایک فرشتہ بھی کرسکتاہے۔لیکن عظمت نبوت یہ ہے کہ ایک ہزار بھیجے پھر تین ہزار اور بھیجیں گے کہ جوہاتھ مبارک دعا کے لیے اٹھے ہیں ان کی عظمت کے لیے،ان کی شان بتانے کے لئے، ان کا مقام بتانے کے لئے میں نے ایک ہزار فرشتہ بھیج دیا۔ پھر تین ہزار اور بھیجیں گے فرمایا (الانفال:10) اوریہ نزول ملائکہ، آپ کے لئے فرشتوں کا آنا ہی جیت کی ضمانت ہو گئی، فتح کی ضمانت ہو گئی تا کہ ان سے تمہارے دل قرار پکڑیں۔ اصل جو بات ہے ایمان اور اسلام کی، وہ یہ یقین ہے کہ دل اس بات پر جم جائیں، قرار پکڑجایں۔تمام عبادات خواہ صلوٰۃ ہو یا تسبیح،روزہ،زکوٰۃ ہو یا حج وجہاد یہ سب اوصاف ملکوتی پیدا کرتے ہیں یعنی فرشتوں جیسی اوصاف اورجب کوئی

زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ فرمایا فرشتوں کا نزول محض کفار کے قتل کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے سکینہ اور رحمت کے نزول کا سبب بھی ہے اور بے شک اللہ کریم ہی غالب اور حکمت والے ہیں۔
جنگ نہیں ہوئی لیکن فرشتے آ گئے۔مفسرین نے لکھا ہے اور آگے قرآن کریم میں یہ واقعہ اپنے مقام پر آتا ہے کہ ابلیس نے عربوں کے ایک نہایت جنگجو قبیلے کے جنگجو سردار کا روپ دھارا اور اپنے چیلوں کو جنگجو ساتھی بنا کر اہل مکہ کے سامنے آیا اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ چونکہ جب قافلہ ایک طرف سے نکل گیا تھا تو مکے کے لشکر میں بھی شور پڑگیا کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے تو اب جنگ سے کیا ہوگا؟لہٰذا اب جنگ نہ کی جائے۔ ابو جہل اور اس کے ہمنوا کہتے تھے کہ جب مکہ سے اتنے دور مدینہ منورہ اور مکہ کے درمیان آ گئے ہیں تو اب ہم لڑے بغیر واپس نہیں جائیں گے تاکہ مسلمانوں کا قصہ اب پاک کر دیا جائے۔ہماری بڑی تیاری ہے، بڑالشکر ہے۔یہ بحث ہورہی تھی کہ ابلیس نے روپ دھار کر ان سرداران قریش سے کہا کہ یہ جنگ ضرور ہوگی۔ میں فلاں سردار ہوں میں بھی تمہارے ساتھ ہوں، یہ میرا لشکر تمہارے ساتھ ہے، چنانچہ جنگ کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔ جب بدر میں صفیں بن رہی تھیں تو ابلیس چھوڑ کر بھاگنے لگا،ابو جہل نے کہا تمہیں بھاگتے ہوئے شرم نہیں آتی یہاں تک ہمیں بھی لائے ہو تو اس نے کہا میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ ابلیس کو تو نظر آرہا تھا کہ فرشتے نازل ہو رہے ہیں، اس نے کہا مجھے تو دکھائی دے رہاہے جو تمہیں دکھائی نہیں دے رہا، میں بھاگ رہاہوں تم جانو تمہارا کام جانے۔تو فرمایا فرشتوں کاآنا ایک تو بشارت تھی فتح کی اور دوسرا قرب ملائکہ سے خدام نبویﷺ کے قلوب کو اطمینان اور قوت ملے گی۔دوسری مہربانی یہ فرمائی (الانفال 11:)آسمانوں سے پانی اتار دیاچونکہ چشمے کا پانی اتنا نہیں تھا کہ سارے لوگ یا کچھ لوگ غسل بھی کرسکیں اور آرام سے وضو بھی کر لیں۔میدان بدر میں مشرکین مکہ نے بلندی کی طرف جو زمین پر پڑاؤ لگا لیا اور قبضہ کر لیا، مسلمان تھوڑے سے نشیب میں آ گئے جہاں زیادہ ریت تھی اور اس میں پاؤں دھنس جاتے تھے تو صحابہ کرام ؓنے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ا گر یہ جگہ وحی الہٰی سے متعین نہیں کی گئی تو ہمیں آگے بڑھ کر بدر کے پانی کے کنویں پر قبضہ کرلینا چاہیے۔وہ جگہ نسبتاً بہتر ہے چنانچہ اسلامی لشکر نے آگے بڑھ کر پانی کے گرد ڈیرہ ڈال لیا، پانی پر قبضہ کر لیا۔ مقابلے سے پہلے اللہ کریم نے رات کو عجیب انتظام فرمایا کہ مسلمانوں پر نیند کی سی غنودگی بھیج دی جس نے انہیں بہت اطمینان و سکون بخشا اور کفار کے لشکر کی کثرت اوران کے ہتھیاروں کی سجاوٹ اور ان کی طاقت مسلمانوں کے خیال سے نکل گئی اللہ پر ان کا بھروسہ مزید بڑھ گیا ان کو ایسی نیندطاری ہو گئی کہ بدن پر سکون ہو گئے۔ اللہ نے انہیں ا پنی طرف سے امن و سکون عطا کر دیا تاکہ ان کے دل مطمئن ہو جائیں۔ اس بات سے بے نیاز ہو جائیں کہ مشرکین کی تعداد کتنی ہے؟ وہ لڑاکے کتنے ہیں؟ یا ان کے پاس اسلحہ کتنا ہے؟ اس کی پرواہ نہ رہے بلکہ اللہ کی ذات اور اللہ کی مدد پر بھروسہ مضبوط ہو جائے اور ثابت قدمی عطا ہوئی۔دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ آسمانوں سے پانی اتار دیا،بارش برسادی چونکہ چشمے کا پانی اتنا نہیں تھا کہ سارے لوگ یا کچھ لوگ غسل بھی کرسکیں اور آرام سے وضوکرسکیں۔پانی تھوڑا تھا، پینے کے استعمال کرنے کے لئے تھا۔اللہ کریم نے بارش بھیج دی۔اس سے دو بڑے کام ہوئے ایک تو جو جگہ مشرکین مکہ کے پاس تھی وہ مٹی والی زمین تھی اس میں کیچڑ ہوگیا اور دلدل بن گئی۔ جہاں لشکر اسلام مقیم تھا وہاں چونکہ ریت تھی وہ بارش سے جم گئی اورمزید مضبوط ہو گئی پھروہ نچلی جگہ تھی، ڈھلان تھی پانی سے بھر گئی۔ جنہوں نے غسل کرنا تھا، انہوں نے غسل کیا،جو وضو کرنا چاہتے تھے، انہوں نے وضو کیا۔
اپنے حبیب ﷺ کو میدان کارزار میں لے آیایہ وہ خوش نصیب تھے جن کے قلوب سے اللہ کریم نے ذاتی طور پر رابطہ فرمایا اور ان کے قدموں کو جمایا پھر ان کی خاطر فرشتے نازل فرمائے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں میری معیت تمہارے ساتھ ہے، میری طاقت تمہارے ساتھ ہے، مومنین کے قلوب پرایسے انوارت القاء کرو کہ ان کے قدم جم جائیں کبھی نہ اکھڑیں۔رہ گئے مشرکین تو اللہ نے فرمایا میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا، مسلمانوں کی ہیبت ان پر طاری کر دوں گا،وہ جو بڑے فخر اور تکبر ایک ہزار کا لشکر جرار جس میں بڑے بڑے جنگجونوجوان تجربہ کاراور پرانے جرنیل اور سالار شامل تھے ان کا سارا گھمنڈ خاک میں مل جائے گا اور اللہ کریم فرماتے ہیں میں ان کے دلوں پر مسلمانوں کا رعب طاری کردوں گا۔ (الانفال:12)اور فرمایا ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کفار کے سر اس طرح قلم کروکہ تلوار تو گردن پرپڑے، سر کٹ جائے لیکن اس کے جسموں کے پورپور سے،ہر جوڑ سے، ہر ہڈی سے درد کی ٹیسیں نکلیں۔نبی کریم ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے صحابہ کرام ؓ کو فتح کی خوشخبری بھی دی تھی اور حضور ﷺ نے میدان جنگ میں مختلف جگہوں کی نشاندہی فرماکر مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کے قتل ہونے کی پیش گوئی فرمائی کہ وہ فلاں یہاں قتل ہوگا،فلاں یہاں قتل ہوگا، فلاں اس جگہ قتل ہوگا اور غزوہ بدر کی فتح کے بعد دیکھا گیا کہ جہاں جہاں حضوراکرم ﷺ نے جن لوگوں کے لیے نشاندہی فرمائی تھی، ان کے لاشے وہیں پڑے تھے، اسی جگہ پر قتل ہوئے۔ تو یہ صرف قتل نہ ہوئے بلکہ اس قتل میں عذاب الہٰی کی ایک کیفیت ایسی تھی کہ تلوار تو گردن پرپڑتی تھی، سر اڑ جاتا تھا لیکن درد جسم کے پورپورمیں ہوتا تھا،ہرجگہ،ہرہڈی،ہرریشے میں الگ سے درد کی ٹیسیں اٹھتی تھیں۔
ان کے ساتھ اتنا سخت اور اتنا شدید عذاب کا سلوک کیوں ہوا؟ ان پر اتنا در دناک عذاب کیوں وراد ہوا؟ مشرکین مکہ اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا محاذ تھے اور عرب کے اردگرد کے قبائل اس انتظار میں تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر حضور اکرم ﷺواقعی اللہ کے رسول ہیں تب ہی مکے والوں پر فتح پا سکیں گے، ورنہ مکے والے اتنے مضبوط ہیں کہ اگر معا ذاللہ حضور ﷺ کا دعویٰ سچا نہیں ہے تو پھر یہ اور ان کے ساتھی مکے والوں کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے۔ یہ ایک تصو رتھا،جزیرہ نمائے عرب کے باقی سارے قبائل میں اوروہ اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اگر مکے والے غالب آتے ہیں تو قصہ ختم ہوگیااور اگر حضور ﷺمکے والوں پر غالب آ جاتے ہیں تو پھر اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا، ہمیں بھی اسلام قبول کر لینا چاہیے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ہمیں بھی ایمان لے آنا چاہیے۔ ان قبائل کا اندازہ تو یہ تھا کہ اگر ہم پلہ بھی ہوں تو اگرمکے سے ہزار آدمی نکلا ہے توحضور ﷺ کے ساتھ بھی ہزار آدمی یا بارہ سو یا ان سے زیادہ بھی ہوں تو پھر بھی مکے والے بڑے ماہر جنگجو، بڑے دلیر،بڑے جرأت مند اور فن شمشیر زنی میں بڑے تاک ہیں اور ان کا ہرانا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن اللہ کریم ساری کائنات کودکھلانا چاہتے تھے کہ حق حق ہوتا ہے اور حق غالب آ کے رہتا ہے اور باطل باطل ہوتا ہے، مٹ جانا باطل کا مقدر ہوتا ہے۔

عبادت کرے اورفرشتے اس کے پاس آئیں تو فرشتوں کا پاس آنا،اطمینان قلب اور سکون قلب کا باعث ہے اور ایمان ک

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments