وزارت تعلیم کی تباہ کن تیاریاں

تحریر : ناصر عظیم خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ

“او” اور اے لیول کے امتحانات کو بالاخر موخر کرنے پر حکومت مجبور ہوگئی گزشتہ شب این سی او سی کا اجلاس ھوا جس میں وفاقی وزیر تعلیم نے شرکت کی۔ این سی او سی کے اجلاس میں یہ طے ہوا کہ طلبہ کی بات درست ھے اور حالات ٹھیک نہیں ہیں جس کے باعث امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا۔ اس تمام تر معاملات کے پس منظر اور گزشتہ کچھ دنوں کے ڈیجیٹل میڈیا پر طلبہ کی جانب سے جو کچھ ھوتا رھا ان تمام تر معاملات پر بات کرے گے ۔ سب سے پہلے یہ بات قابل غور ھے کہ حکومت کی کارکردگی پر نطر ڈالی جائے تو تشویش ضرور ہوتی ھے کہ اگر تعلیم کے حوالے سے ان کی اگر یہ پلاننگ چل رھی تھی تو بقیہ حالات کہاں کھڑے ہیں۔ اور تعلیم کے بقیہ پورشن کے کیا حالات ھونگے اور کس طرح کی روٹین چل رھی ھوگی۔ اس تناظر میں وزارت تعلیم پر سوالیہ نشان ھے کہ انہوں نے کیوں نہ پہلے سے کوئی حالات کا جائزہ لیا کہ طلبہ کو اتنی محنت اور منت کرنی پڑی۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ روزانہ کی بنیاد پر بنتے رھے جس میں عمران خان سٹوڈنٹس کو بچاو سمیت شفقت محمود صاحب کے حوالے سے بھی ٹویٹ دیکھنے کو ملی اور کل کے دن این سی او سی طلبہ کو بچاؤ ٹاپ ٹرینڈ رھا۔ اس پر نامور صحافیوں نے بھی ٹویٹ کیا جس کے بعد مریم نواز نے بھی اس پر بات کی اور پھر اجلاس کے بعد امتحانات ملتوی کر دیے گے
اس میں جو نقصان تھا طلبہ کو وہ یہ بات سب سے اہم تھی کہ کیمبرج کے رولز اور ریگولیشن کے مطابق کرونا ایس او پی ایز پر سختی سے عمل کروا کر کسی ملک میں امتحان لیا جاسکتا ھے اور پاکستان کے آج کل کے حالات کے مطابق کرونا میں شدت ھے اور متعدد طلبہ کرونا کا شکار ہیں اور ایس او پیز کے مطابق امتحانات سینٹر میں طلبہ کا بخار چیک کرنے کے بعد امتحان دینے کی اجازت تھی اور اگر خدانخواستہ کسی بھی طالب علم کا ٹمپریچر زیادہ آنے کی امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی۔ طلبہ اس بات سے بھی خوفزدہ تھے۔ اسی کے ساتھ ایک مسلہ اور بھی درپیش آنا تھا وہ یہ کہ جب طلبہ نے امتحانات دینے کے لیے اکھٹے ھونا تھا تو کرونا کے پھیلنے کے چانس بھی زیادہ تھے۔ اور متعدد طلبہ اس سے متاثر ھو کر امتحانات سے ناک آؤٹ ھو سکتے تھے۔
اب بات کر لیتے ہیں امتحانات “او” اور “اے ” لیول کی جو کہ مختلف ممالک میں پہلے سے ھی ملتوی کر کے اسسیسمنٹ ٹیسٹ کے زریعے پروموشن کا طریقہ کار بنایا گیا ھے۔ وہاں کی حکومتوں نے پہلے ھی اس معاملے پر نظر کر کے طریقہ کار کو وضع کروا لیا تھا۔ مگر پاکستان میں حالات کچھ مختلف نظر آۓ اور آج سے چوبیس گھنٹے پہلے تک طلبہ کو اس بات کا بھی نہیں پتہ تھا کہ امتحانات کا کیا بنے گا۔
حکومت کی پالیسی پر سوالیہ نشان تو ھے کہ اگر تعلیم کے دو شعبہ جات میں یہ تیاریاں ھیں تو باقی تعلیمی نصاب سمیت طریقہ کار اور عام تعلیم والے بچوں کا کیا بنا ھوگا اور ان کے لیے کیا پالیسی وضع کی ھوگی۔ جب سے کرونا آیا ھے تعلیم کا نظام گڑ بڑ ھے اور بچوں کو زیادہ تر سکول بند ھی ملے۔ مجبوراً تمام تر پڑھائی آن لائن کر دی گئی۔ اس کے حوالے سے وزارت تعلیم کی پالیسی پر بھی اب تشویش ضرور ھونی چاہیے کیونکہ تعلیم کا وہ شعبہ خاص کر او اور اے لیول کے طلبہ جو سمجھدار ھونے کے ساتھ نمایاں بھی ھوتے انہوں اپنا حق لڑ لڑ کر تو لے لیا لیکن اب نصاب تعلیم والا بچہ مسلے دوچار ھوا تو اس کا کیا بنا ھوگا۔
کرونا کی وجہ سے تعلیم پر کیا اثر پڑا اور اس کے نتائج کتنے دور رس ھونگے۔ سب سے اہم بات یہ ھے کہ ان دو سالوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں نے سکول کی شکل ٹھیک طرح سے نہیں دیکھی اور جیسے ھی سکول کھلتا ھے تو کرونا نازل ھو جاتا اور بچے پھر سے گھر اب تمام تر تعلیم مجبوراً آن لائن کر دی گئی اور اب بچے آن لائن تعلیم حاصل کر کے نا جانے آن لائن جیسے ہونہار طالب ھی نہ بن جائے یہ بھی سب بڑا مسئلہ ھوگا کیونکہ جو علم کتابوں سے لیا جاسکتا ھے وہ آن لائن کہا۔ اسی طرح اب آج کے حالات دیکھنے کے بعد یہ سوال بھی جنم لے رھا ھے کہ آن لائن تعلیم کا جو طریقہ وضع کیا گیا ھے کیا اس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی ھے کہ نہیں اور اگر ھے تو اس کو کس پالیسی کی بنیاد پر چلایا جا رھا ھے-
کرونا وباء کے اس دور میں اب وزارت تعلیم کو بھی سوچنا ھوگا کیونکہ کرونا فل الوقت جاتا ھوا تو نظر نہیں آرھا تو تعلیم کے محکمے کو مکمل پالیسی اۂندہ کے سالوں کے لیے وضع کرنی ھوگی اور کوئی ایسی ترتیب بنانی ھوگی جس سے تعلیم کا حرج بھی نہ اور یہ سلسلہ بھی جاری کیونکہ حالات جیسے بھی ھو تعلیم کا سلسلہ جاری رہنا بہت ضروری ھے وگرنہ مشکل ھو جائے گا اور اۂندہ آنے والی نسلوں کے مستقبل میں تاریکی ھوگی۔ آنے والی نسلوں نے پاکستان کی بھاگ دوڑ سمبھالنی ھے اگر معاملہ ہونہی چلتا رہنا ھے تو وزارت تعلیم کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر تمام تر تعلیمی اداروں کو ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ھوگا اور سرکاری سکولوں کے بچوں کے لیے بھی ٹیکنالوجی کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ھوگا کیونکہ کچھ طالب جو عام مضامین میں پڑھتے اور گاؤں یا ایسے علاقوں میں رھتے ھیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں تو طالب کتنی مشکل سے دوچار ھوگا اور وہ تو اپنی آواز بھی نہیں پہچا پا رھا ھوگا جیسے او اور اے لیول کے طلبہ نے پہچائی۔ ہمیں اپنی اصلاح کرنی ھوگی تاکہ آۂندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن رھے اور جو اس دس دنوں میں حالات طلبہ برائے او اے لیول نے برداشت کیے اور جیسے سامنا کیا آۂندہ آنے والے تمام طلبہ نہ کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی مثال بھی یہاں دینی بنتی ھے جنہوں نے یہ امتحانات پہلے سے ھی ملتوی کر کے کیمبرج کے ساتھ مل کر پالیسی برائے پرموشن بھی وضع کر دی تھی ان میں برطانیہ، بھارت، سعودی عرب اور اومان جیسے ممالک ھیں۔ جس کی وزارت تعلیم نے اس مسلہ کو خود دیکھتے ہوئے اس بات پر عمل پیرا ھوکر اپنی زمہ داری سمجھا اور اس کی پالیسی پر بھی کام کر رکھا تھا۔
طلبہ کی جانب سے جتنا بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اس میں سب سے پہلے طلبہ کو پولیس نے کراچی میں تشدد بھی کیا اور انہیں پھر اندازا ھوا کہ یہ معاملہ روڈ پر نکلنے کے بجائے سوشل میڈیا کے زریعے حل ھو سکتا ھے اس کے بعد طلبہ جن باتوں کو واضح کر رھے تھے ان میں خاص کر یہ باتیں تھی کہ بہت سے طلبہ کرونا کا شکار ہیں اور بہت سے ھو جائے گے اس کے بعد وہ یہ بات بھی کر رھے تھے کہ طلبہ نے اس سارے عرضہ میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ھے اور اب وہ مزید تقصان کے متحمل نہیں ھوسکتے۔ اور ساتھ اس بات کی مثال بھی دے رھے تھے کہ پچھلے سال کی نسبت تناسب کرونا اس بار زیادہ ھے تو امتحانات کیسے ھو سکتے ہیں۔
طلبہ کا مطالبہ جائز تھا مگر حکومت اپنی زد پر آڑی ھوئی تھی اور آخر این سی او سی اجلاس کے بعد طلبہ کے مطالبے اور منت کی جیت ھوئی اور حکومت کے بیانیہ کو ہار بھی اور پالیسی کے فقدان کی بات بھی عیاں ھوگئ۔ وزارت تعلیم کو ہوش کے ناخن لے کر تعلیم کے شعبے ہر محنت کرنی ھوگی کیونکہ تمام تر پاکستان کا مستقبل ان کے ہاتھ میں اگر یہ خواب غفلت میں رھے تو بچوں کا مستقبل اور تعلیم کی پالیسیاں نہ ھونے کی وجہ سے تاریک بھی ھو سکتی ھے۔
انشاءاللہ امید کرے گے وزارت تعلیم آۂندہ ایسا مسلہ پہلے سے ھی پالیسی بنا کر حل کرے گی ناکہ طلبہ کو تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج کا راستہ اپنا کر اپنا وقت برباد کرنا پڑے اور ان چہروں کو خان صاحب اور خان کی حکومت سامنے لاۓ جنہوں نے پالیسی کے بغیر وزارت تعلیم کو سنبھال کر اس کا بیڑا غرق کرنے کی کوشش کی ھے۔ امید کرے گے کہ حکومت وقت اس کوتاہی کی انکوائری ضرور کرواۓ گی۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments