سمجھ نہیں آتا کہ لوگ علیحدگی پر روتے کیوں ہیں، جویریہ عباسی

پاکستانی ڈراموں میں مختلف مضبوط کرداروں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی جویریہ عباسی کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ علیحدگی پر روتے کیوں ہیں، اگر ایسا ہوگیا تو اپنی زندگی جیئیں۔

فسچیا میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں جویریہ عباسی نے بیٹی کا تنہا پالنے کے تجربے سے متعلق گفتگو کی اور اس دقیانوسی سوچ کو رد کیا کہ سنگل مدرز کو ہمیشہ چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہوتا ہے اور وہ بچوں کو اکیلے نہیں پال سکتیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ ہر کوئی یہ کیوں کہتا ہے کہ سنگل مدر ہونا مشکل ہے، یہ ایک بہت پُرجوش چیز ہے’۔

جویریہ عباسی نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں یہ مانا جاتا ہے کہ شوہر ہونا ضروری ہے اور بچے مرد ہی پالے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں ایک اداکارہ ہوں، اچھا کماتی ہوں، میرا طرز زندگی بہت اچھا ہے، میں جو بھی کماتی ہوں الحمداللہ اس سے اپنی اولاد کو ایک اچھی زندگی دے سکتی ہوں، مجھے مرد کی ضرورت نہیں ہے’۔

جویریہ عباسی نے اپنی بیٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کو بہت اچھے سے پالا ہے، میری بیٹی بہت اچھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘وہ کام کررہی ہے، میں بہت خوش ہوں کہ وہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہے، آپ کو زندگی میں اور کیا چاہیے ہوتا ہے’۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ‘میں اس سے بہتر نہیں کرسکتی تھی اور میں نے اپنی بہترین کوشش کی ہے۔

انہوں نے پھر خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تلقین کی کہ وہ ایک برے تعلق کو چھوڑنے کے روشن راستوں کی جانب دیکھیں۔

جویریہ عباسی کا کہنا تھا کہ ‘مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ علیحدگی پر روتے کیوں ہے، اگر ایسا ہوگیا ہے تو اس پر رونا بند کریں’۔

اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں یہ نہیں کہہ رہی کہ شادی نہیں کرنی چاہیے یا شوہر سے الگ ہوجانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوگیا ہے تو اپنی زندگی جیئیں’۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments