وزیراعظم فیصلہ کن موڈ میں

تحریر ۔اوصاف شیخ

جب سے عمران خان نے یعنی پی ٹی آئی نے حکومت بنائی ہے لگتا ہے پاکستان کے اس سے قبل ستر سال میں جیسے مسائل ہی نہ تھے سارے مسائل شروع ہی اب ہوئے ہیں ۔ مہنگائی سے لے کر بے روزگاری ۔ لوگوں کے کام دھندے بند ہونے سے لے کر ملکی اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہی اب کرنا پڑا ہے ۔ میں داد دیتا ہوں پاکستان اور دو بڑے صوبوں پر بار بار حکمرانی کرنے والوں کو کہ کتنی آسانی سے وہ اپنے گلے کا سانپ عمران خان کے گلے میں ڈال رہے ہیں اور ان سے بھی زیادہ داد تو ان کو بنتی ہے جو ان کے ماننے اور چاہنے والے ہیں ۔ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ۔۔۔ سب کچھ بھگتا ۔۔۔ لیکن مجال ہے جو اپنے ہیروز ہر الزام آنے دیں ۔۔۔ جی ہاں ہیرو ۔۔۔۔پاکستان میں جس جمہوریت کا ذکر کیا جاتا ہے جس جمہوریت کو بچانے کے دعوئے اور وعدے کیئے جاتے ہیں وہ ہے کہاں ؟ یہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی رکھیل ایک طرز حکومت ہے جو انہوں نے ہم جیسے ملکوں کے لیئے مقدس گائے بنا دی ہے ۔۔۔ یہ کہاں کی جمہوریت ہے جس میں عقل و شعور ۔ فہم و فراست کو دخل ہی نہیں ۔۔۔ پاکستان میں تو کبھی بھی انتخابات میں پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ کاسٹ نہیں ہوئے بلکہ گنتی کبھی ہچاس تک گئی ہی نہیں حقیقت میں ۔۔۔۔ ایک الیکشن میں جب جسٹس فخر الدین عرف فخرو بھائی نے ن لیگ کو زیادہ ہی نشستیں دینا تھیں تو ٹرن اوور پچاس سے زیادہ دکھا دیا لیکن اس میں بھی پینتالیس سے اوپر نہیں تھا       یہاں جمہوریت نہیں صاحب ہیرو ازم چلتا ہے ۔۔۔ کہیں بیالیس سال سے بھٹو نہیں مر رہا ۔ اور یہاں پنجاب کے زور پر بنائی گئی آئی جے آئی جسے ن لیگ میں تبدیل کیا گیا وہ ہیرو بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ کوئٹہ میں محمود اچکزئی ۔ خیبر میں اے این پی اور ایک مسلک کی جماعت جے یو آئی کی ہیرو ازم ہے ۔ اور اب پاکستان بھر سے بالخصوص پنجاب اور خیبر سے دائیں بازو میں بائیں کا تڑکا یا بائیں بازو میں دائیں کا تڑکا لگا کر عمران خان کی تحریک انصاف نے جگہ بنا لی      عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے سب سے زیادہ زور ملک سے کرپشن کے خاتمے پر دیتے رہے ان کا ہمیشہ یہی کہنا رہا کہ بیشتر ملکی مسائل کی وجہ کرپشن ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔۔۔  اور وہ نعرہ لگاتے رہے کہ وہ اقتدار میں آکر کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور ملکی دولت لوٹنے والوں کا احتساب کریں گے ۔۔۔ انہوں نے حکومت بنالی لیکن کمزور ترین حکومت جس میں انہیں حکومت سازی کے لیئے ان کو بھی شامل کرنا پڑا جن کو عام حالات میں وہ کرپٹ سمجھتے تھے لیکن ان کا زیادہ فوکس ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر رہا کہ یہی دونوں جماعتیں بار بار حکومت کرتی رہیں اور پیپلز پارٹی پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں سے صفایا ہونے کے باوجود اب بھی سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور اسے اس بار سندھ میں حکومت کرتے یوئے مسلسل تیرھواں سال ہے      اس کمزور حکومت جس میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اپنی چھوٹی الحاقی جماعتوں کی بلیک میلنگ کا بھی سامنا ہے اور اپنی ہی جماعت کے اندر کچھ لوگوں کی کرپشن اور نا اہلی سے بھی وہ پریشان ہیں      جہاں عمران خان حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا وہیں انہیں یہ احساس بھی شدت سے ہو گیا کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے پورے کا پورا سسٹم کرپٹ ہے ۔۔۔ ان مافیاز سے لڑتا ہوا عمران خان ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑا ہے تو یہ بھی حیرانی کی بات ہے کیونکہ یہ مافیا تو ایسے بندے کو زندہ نہیں چھوڑتا ۔۔۔      کتنے کیس یوئے ۔ کسی کیس میں بھی کسی کو سزا نہیں یوئی بلکہ جتنا بڑا کوئی ملزم ہے اس کو اتنی ہی عزت اور شان و شوکت دی گئ ۔۔۔ جلسوں ۔ جلوسوں ۔ پریس کانفرنسوں میں دھڑا دھڑ ڈھٹائی سے جھوٹ بولے جا رہے ہیں ۔۔۔ خیر عوام تو کبھی ان جھوٹوں کو سمجھے گی نہیں ۔ یہی اس بھیانک جمہوریت کا حسن ہے ۔۔۔۔ مکروہ حسن جسے باتوں میں حسین بنا کر بیوقوف بنایا جا رہا ہے      آخر کار مجبور ہو کر عمران خان نے اشارہ دے دیا کہ وہ اسمبلیاں توڑ کر عوام کے پاس جائیں گے تو مخالف کیمپوں میں قیامت برپا ہو گئی بالخصوص ن لیگ تو کبھی نہیں چاہتی کہ وقت سے پہلے الیکشن ہوں ۔ آج اگر عمران خان حکومت توڑ دیتے ہیں تو نوے دن کے اندر نئے انتخابات کروانا ہوں گے اور ن لیگ تو شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے ۔۔۔ نواز شریف واپس آنے کے لیئے نہیں گئے ( وہ کچھ دے کر گئے ہیں یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ) مریم نواز الیکشن ہی نہیں لڑ سکتیں ان کا بھی ڈان لیکس کے بعد معاہدہ ہے بلکہ اسی شرط پر معافی دی گئی تھی یہ تو جو وہ باہر رہ کر سیاست کھیل رہی ہیں ان کو چھوٹ دی گئی ہے۔۔۔۔ اور نواز شریف بالخصوص مریم کبھی بھی شہباز شریف اور حمزہ کے لیئے جگہ خالی نہیں چھوڑیں گے ۔ پیپلز ہارٹی تیرہ سال سے مسلسل سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور اپنی کارکردگی کی بنا پر وہ انتخابات میں جانے کو تیار نہیں ہوگی      ہاں ۔۔۔۔ البتہ ایک کام ہو سکتا ہے ۔۔۔ اور یہ کام ہو گیا تو ن لیگ کے ساتھ ساتھ چند بلیک میلر جماعتوں کی بھی چھٹی ہو جائے گی اور خود تحریک انصاف کے اندر کچھ لوگوں کی چھٹی ہو جائے گی جس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں کیا کہ ان سے کچھ ٹکٹوں کی تقسیم غلط ہوئی اور کچھ وزارتیں ٹھیک نہیں دی گئیں      وہ کام یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ اگر پیپلز ہارٹی بھی کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت دوبارہ الیکشن میں جانے کو تیار ہو گئی تو پاکستان کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔۔۔ کچھ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ عمران خان کے کچھ قریبی بھی عمران خان کے اس اشارے سے شدید خوفزدہ ہیں۔۔۔ ایک دوسری صورت بھی ہے کہ عمران خان اگر اسمبلیاں نہیں توڑتے بلکہ خود صرف اپنی حکومت توڑ دیتے ہیں تو ہے کوئی اسمبلی میں ایسا شخص یا ایسی جماعت یا ایسا اتحاد جو نیا وزیر اعظم لے آئے ؟ ۔۔۔۔ نہیں ہے ۔۔۔۔ قطعا” نہیں ہے ۔۔۔ وزیر اعظم حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کن موڈ میں نظر آ رہے ہیں

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments