زمینی حقائق نظرانداز کرتا ہمارا روایتی اور سوشل میڈیا

تحریر۔نصرت جاوید

ہمارے عقیدے کے مطابق مکہ اور مدینہ یقیناً مقدس ترین شہر ہیں۔ ان کے بعد مگر بیت المقدس کا ذکر بھی ضروری ہے اور وہاں موجود مسجد اقصیٰ۔ رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کے دن سے پیر کی صبح یہ کالم لکھنے تک اسرائیل کی پولیس اور امن وامان کو یقینی بنانے کے دعوے دار ادارے بلاتعطل اس مسجد کی بے دریغ بے حرمتی میں مصروف ہیں۔ نہتے فلسطینی شہریوں کو زمین پر پٹخ کر ان کی گردنوں پر گھٹنا رکھتے ہوئے وحشیانہ طاقت کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں خواتین کو بھی بخشا نہیں جا رہا۔ ٹویٹر وغیرہ پر خواتین کے احترام اور حقوق کے چمپئن بنے بے تحاشا افراد مگر ان پر ہوئے ظلم کی بابت منافقانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسا کوئی ایک واقعہ اگر کسی مسلمان ملک کی پولیس کی وجہ سے رونما ہوا ہوتا تو سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں کئی روز تک واویلا مچارہتا۔

پریشان کن حقیقت یہ بھی ہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس پر وحشیانہ حملے کا آغاز ان دنوں کیا ہے جب کئی مسلمان ممالک کی حکمران اشرافیہ سنجیدگی سے اپنا غلام بنائے عوام کو یہ سمجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ ماضی کو بھلاکر اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے ”دوستی“ والا تعلق بنایا جائے۔ اس ضمن میں اسرائیل کی ”جدید ترین ٹیکنالوجی“ کا مسلسل ذکر بھی ہوتا ہے جو صحراؤں کو سرسبزبنادیتی ہے۔ اپنے اوپر پھینکے میزائل کو فضا ہی میں ناکارہ بنادیتی ہے۔

اگست 2019 سے ہم پاکستانیوں کی اکثریت کو اپنے ”برادر“ ممالک سے یہ گلہ رہا کہ وہ مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور ثقافتی تشخص کو برباد کرنے والے فیصلے کی بابت احتجاج کے دو لفظ بھی ادا نہیں کر رہے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک یعنی بھارت کی منڈی میں کاروباری امکانات کو لالچ بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ فلسطین مگر صرف ”اسلامی“ مسئلہ ہی نہیں بے تحاشا وجوہات کی بنا پر ”عرب“ مسئلہ بھی ہے۔ جمعۃ الوداع کے دن سے تاہم بیت المقدس میں ریاستی بربریت کے جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان کی بھرپور مذمت کے لئے عرب لیگ یا او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔

عرب ممالک کی بے اعتنائی یہ سوچتے ہوئے مزید ناقابل برداشت محسوس ہوتی ہے کہ مصر، شام اور عراق جیسے ممالک میں فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فیصلہ کن جنگ کی تیاری کے نام پر وہاں بدترین آمرانہ نظام مسلط رہے۔ جمال عبدالناصر کی کرشماتی شخصیت کی بدولت اس چلن کا آغاز ہوا۔ 1967 میں وہ اسرائیل کے ہاتھوں بدترین شکست سے دو چار ہوا۔ اس کے جانشین انوارالسادات نے اس شکست کا بدلہ لینے میں ناکامی کے بعد بالآخر کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کر لیا۔ اسرائیل سے صلح کے باوجود مصری عوام کو لیکن بنیادی حقوق نصیب نہ ہوئے۔ اس صدی کے آغاز میں نام نہاد ”عرب بہار“ کے چند دن گزرنے کے بعد آج بھی وہ ملک ایک ”دیدہ ور“ آمر کا غلام ہے۔ شام فلسطینیوں کی مدد کرنے کے بجائے گزشتہ چھ برسوں سے بدترین خانہ جنگی کی زد میں ہے۔ لبنان میں نصابی اعتبار سے فی الوقت کوئی حکومت ہی موجود نہیں۔ دریں اثناء ٹرمپ کی ایماء پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان جیسے کئی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلئے ہیں۔ کرونا کے باوجود متحدہ عرب امارات میں اسرائیل سے ریکارڈ تعداد میں ”سیاحوں“ کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینیوں کو عرب ممالک نے یقیناً بھلادیا ہے۔

بیت المقدس میں جاری بربریت اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ حکمران اشرافیہ کے مابین ماضی کو بھلاکرنئی ”تاریخ“ لکھنے والے بندوبست ان تنازعات کا دائمی اور سب کے لئے قابل قبول حل فراہم کرہی نہیں سکتے جن کی جڑیں بہت تاریخی ہیں۔ ان تنازعات کا سب کے لئے قابل قبول حل ڈھونڈنے کی پرخلوص کوششیں نہ ہوں تو خفیہ سفارت کاری کی بدولت طے ہوئے بندوبست عوام کو مطمئن کرنے میں قطعاً ناکام رہتے ہیں۔ محکوم ہوئی اقوام کے دلوں میں بغاوت کی خواہش سلگتی رہتی ہے۔ قابض قوتیں مگر اس گماں میں مبتلا رہتی ہیں کہ اشرافیہ کی سرپرستی میسر نہ ہونے کے سبب یہ سلگتی آگ شعلوں کی صورت اختیار نہیں کرے گی۔ ہٹلر کی طرح وہ اپنے تئیں حتمی سمجھوتہ یا Final Settlementکرچکے ہوتے ہیں۔ انجام مگر دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کی صورت ہی وارد ہوتا ہے۔ جمعۃ الوداع کے دن سے بیت المقدس میں جو چنگاری بھڑکی ہے اسے نظرانداز کرنا بھی حماقت ہوگی۔ سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی آگ بھڑکائے گی۔ عرب اور اسلامی ممالک کے حکمران اس کی تپش سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔

بیت المقدس کے علاوہ ہمارے ہمسائے۔ افغانستان۔ میں بھی ایک ہولناک واقعہ ہوا ہے۔ کابل کے مغرب میں واقع ایک علاقے میں جو ہزارہ برادری کے لئے مختص ہے بچیوں کے سکول کو بم دھماکوں سے اڑادیا گیا۔ ابھی تک ستر کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ طالبان نے مذکورہ واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ داعش کو اس کا ذمہ دار تصور کیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت مگر یہ دعویٰ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہورہی۔ اصرار کر رہی ہے کہ ”داعش“ طالبان ہی کا ایک اور روپ ہے۔ بہت مہارت سے یہ تاثر اجاگر کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے کہ داعش کا کابل میں وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ ا سکے Sleepers ’Cellاگرچہ شہر کے کچھ علاقوں میں کوئی دہشت گرد کارروائی برپا کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔

پنے تئیں کسی بڑی واردات کا ارتکاب کرنے کے مگر وہ قابل نہیں۔ نام نہاد ”حقانی نیٹ ورک“ کی معاونت کے طلب گار رہتے ہیں۔ ”حقانی نیٹ ورک“ کا ذکر چلے تو ”پنجابی طالبان“ کی گفتگو بھی شروع ہوجاتی ہے۔ ان کے روابط پاکستان سے جوڑنے کی کوشش ہوتی ہے۔

کئی دنوں سے اس کالم کے ذریعے تواتر کے ساتھ متنبہ کر رہا ہوں کہ امریکی افواج کا اس برس کے ستمبر میں افغانستان سے کامل انخلاء اس ملک میں امن کو یقینی نہیں بنائے گا۔ طالبان دنیا کی واحد سپرطاقت کو شکست دینے کے بعد ”امارت اسلامی“ بحال کرنے کو ڈٹ جائیں گے۔ ان کی مزاحمت بھی یقینی ہے اور یوں افغانستان میں بدترین خانہ جنگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔ سفارتی سطح پر جاری ”آنیاں جانیاں“ زمینی حقائق کو تاہم نظرانداز کیے ہوئے ہیں۔ ہفتے کے دن کابل پر نازل ہوئی قیامت نے ان حقائق کو انتہائی وحشت سے بے نقاب کر دیا ہے۔ ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن ساز“ مگر ان حقائق پر توجہ ہی نہیں دے رہے۔ بحث ہو رہی ہے کہ شہباز شریف کو لندن جانے سے ”کس نے“ اور ”کیوں“ روکا۔
بشکریہ نوائے وقت۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments