آرڈیننس سرکار

موجودہ حکومت جس تواتر سے آرڈیننس پر آرڈیننس لاگو کرتی جارہی ہے. اس کو دیکھ کر تو لگتا ہے. کہ پارلیمنٹ کو تالا لگانا پڑے گا. جس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو بنایا جاتا ہے. اگر اس سے وہ کام ہی نہ لیا جائے. تو پھر اس کو قائم رکھنے کا کیا فائدہ. ارکان پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ایک طویل و پیچیدہ طریقہ انتخاب سے گزرنا پڑتا ہے. ان ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اپنے حلقہ کی عوام کی آواز بن کر انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنا ہوتا ہے. تاکہ ان کی شنوائی ہو سکے. اور یہ مسائل فی الفور حل ہو جائے. انہیں ارکان پارلیمنٹ نے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے مناسب قانون سازی کرنا ہوتی ہے. ارکان پارلیمنٹ کا عوام کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے. انہیں عوام کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے بارے میں بہتر آگاہی ہوتی ہے. پارلیمنٹ کے ذریعہ سے کی گئی قانون سازی مثبت و تعمیری نوعیت کی ہوتی ہے. کیونکہ اس میں حکومت وقت اور اپوزیشن کے ارکان کی رائے کا یکساں احترام کیا جاتا ہے. اس لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کی افادیت پورے ملک کے لیے یکساں ہوتی ہے. اور عوام اس پر خوش دلی سے عمل درآمد کرتی ہے . جبکہ آرڈیننس ایک عبوری قانون ہوتا ہے. جو ایک مخصوص عرصہ کے لیے بنایا جاتا ہے. جیسے ہی وہ عرصہ اختتام پذیر ہوتا ہے . یہ آرڈیننس بھی اپنی موت آپ مر جاتا ہے. آرڈیننس اس وقت لاگو کیا جاتا ہے. جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو. اور فوری طور پر قانون کی ضرورت ہو. جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتا ہے. اس آرڈیننس کو ارکان پارلیمنٹ کی منطوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے. تاکہ اس کو مستقل قانون بنایا جا سکے. حکومت کی مضبوطی کا انحصار بھی موثر قانون سازی پر ہوتا ہے. کیونکہ جب بھی کوئی قانون پارلیمنٹ سے اکثریت رائے سے منظور ہوتا ہے. اس کا مطلب یہ ہوتا ہے. کہ حکومت کو ایوان کے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے. مگر جب کبھی حکومت وقت پیش کردہ مسودہ قانون کو پاس کروانے میں ناکام ہو جاتی ہے. تو اسے اس کی ناکامی تصور کیا جاتا ہے. اور پارلیمنٹ کے ارکان کی طرف سے اس پر عدم اعتماد کا اظہار سمجھا جاتا ہے. موجودہ حکومت شاید اپنے ارکان اسمبلی سے خوفزدہ ہے. یا اسے ان پر شک ہے. اسے لیے تو وہ ہر قانون کو چور راستہ سے بنانے میں اپنی افادیت گردانتی ہے. موجودہ حکومت نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں اتنے زیادہ آرڈیننس جاری کیے ہیں. کہ اگر اسے آرڈیننس سرکار کے خطاب سے نوازا جائے. تو بیجا نہ ہو گا. پارلیمنٹ سے قانون سازی محض ایک رسمی کاروائی نہیں. بلکہ یہ ارکان پارلیمنٹ کو عزت و وقار دینے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے. اس طریقہ سے ان کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے. انہیں اس بات پر فخر محسوس ہوتا ہے. کہ ملک کے لیے بنائے گئے. قانون میں ان کی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے. مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے اس تقدس کو جس طرح سے پامال کیا ہے. ماضی میں اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی. ارکان پارلیمنٹ کسی بھی ایسے بل کی حمایت نہیں کرتے. جو عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنے. کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے. کہ انہوں نے ایک مقررہ وقت کے بعد پھر سے عوام کی عدالت میں پیش ہونا ہے. اگر وہ ظالمانہ قانون بنا کر عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دے گے. تو وہ کس منہ سے ان کے پاس دوبارہ جا سکے گے. آرڈیننس کوئی بری چیز نہیں. اگر اس کو اچھی نیت سے لاگو کیا جائے. ناکہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے. موجودہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ آرڈیننس زیادہ تر اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے ہیں. جس میں سے چند کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے. صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ سے ایک احکام جاری کیا گیا. کہ الیکشن میں کامیاب ہونے والا کوئی رکن اگر نوے دن تک حلف نہیں لے گا. تو اس کو ڈی سیٹ کر دیا جائے گا. یہ آرڈیننس نیک نیتی پر مبنی نہیں. یہ ڈرامہ بازی صرف اور صرف اسحاق ڈار کی سینٹ کی رکنیت ختم کرنے کے لیے کیا گیا. اسی طرح سے اب آزادی صحافت کا گلہ دبانے کے لیے راتوں رات صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ سے صحافت کی ترقی کے لئے ایک اتھاٹی قائم کی جا رہی ہے. جس کا سربراہ اکیس گریڈ کا سرکاری آفیسر ہو گا. یہ طے کرے گا. کہ میڈیا عوام کو کیا دیکھائے گا اور کیا نہیں. اگر کوئی صحافی یا میڈیا کا ادارہ اس اتھارٹی کے نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی کرے گا. تو اسے دو سال قید اور پچیس لاکھ تک جرمانہ ہو گا. اس طرح کی قانون سازی تو آمروں کے دور حکومت میں بھی نہیں ہوتی. آزادی صحافت پر قدغن لگا کر حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے. کیا حکومت آزاد صحافت سے خوفزدہ ہے یا اس کے سرپرست. حامد میر ایک نڈر صحافی ہے. اس نے اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر وہ سچ بولا جس کو بولنے کے لیے دل و گردہ چاہیے. مگر بکاؤ صحافی اس کے خلاف بول رہے ہیں. شاید انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ غلام صحافت سے بہتر ہے کہ بندہ دلالی کر لے اس میں زیادہ پیسہ ہے. انہیں شرم بھی نہیں آتی. ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر اپنی ہی برادری کے خلاف زہر اگلتے ہیں. کیا یہ صحافت کے پیشہ سے وابستہ نہیں. موجودہ حکومت عدلیہ، صحافت، سیاست ہر شعبہ زندگی کو فتح کرنے کے چکر میں جائز و ناجائز ہر طریقہ اختیار کر رہی ہے. موجودہ حکومت کا المیہ ہے. کہ یہ کسی پر بھی اعتبار و بھروسہ کرنے کو تیار نہیں. نہ اپنے ارکان اسمبلی، نہ اپوزیشن، نہ عدلیہ، نہ میڈیا. یہ سب کو اپنا دشمن سمجھتی ہے. اسی لیے تو ہر کام خفیہ طریقہ سے سر انجام دیتی ہے. پارلیمانی نظام حکومت میں صدر بے اختیار ہوتا ہے. مگر اتنا بھی نہیں جتنا کہ موجودہ صدر ہے. یہ تو ربر اسٹمپ بنا ہوا ہے. ہر ناجائز قانون کو آرڈیننس کی صورت میں جاری کرتا جا رہا ہے. وزیراعظم عمران خان اپنے ارکان پارلیمنٹ کو عزت اور اہمیت دینا شروع کر دے. تو ان کے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود ختم ہو جائے گے. مگر وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے. شاید وہ اکیلے ہی کھیلنا چاہتے ہیں. اسی وجہ سے ان کے اپنے ارکان پارلیمنٹ میں بد اعتمادی پھیل چکی ہے. اور وہ اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے پریشر گروپس بنا رہے ہیں. یہ موجودہ حکومت کی کم عقلی یا نالائقی ہے. کہ وہ ہر اچھے کام کو بھی غلط طریقہ سے سر انجام دیتی ہے. جس کی وجہ سے ہر بار ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے. اسے ارکان پارلیمنٹ کو چاہے وہ حکومتی پارٹی کے ہو یا اپوزیشن کے سب کو عزت دے. اور ان کی باہمی مشاورت سے پارلیمنٹ کے ذریعہ سے قانون سازی کرے. اس طریقہ سے اس کی اپنی اور پارلیمنٹ کی توقیر و عظمت میں بے پناہ اضافہ ہو گا.

اب اندھیروں میں جو ہم خوف زدہ بیٹھے ہیں.
کیا کہیں خود ہی چراغوں کو بجھا بیٹھے ہیں.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments