سعودی عرب میں بے گناہ شخص 19 ماہ کی قید کے بعد جیل سے رہا

جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2021ء) سعودی عرب میں بے گناہ شخص 19 ماہ کی قید کے بعد جیل سے رہا، رہائی کے بعد لاکھوں ریال کی رقم ملے گی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک دلچسپ مگر افسوسناک کیس کا اہم فیصلہ سنایا گیا۔ سعودی میڈیا کے مطابق ایک بے گناہ سعودی شخص عدالت کی ایک غلطی کی وجہ سے ڈیڑھ سال تک جیل میں قید رہا۔ بعد ازاں عدالت نے اپنی غلطی کا علم ہونے پر مذکورہ شخص کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے رہا ہونے والے شخص کی بے گناہی اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا گیا۔ عدالت نے زندگی کے 19 ماہ برباد ہونے کے عوض متاثرہ شخص کو 8 لاکھ ریال ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اسے باعزت بری بھی قرار دے دیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کیخلاف ایک کرمنل کیس دائر کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ تاہم بے چارے متاثرہ شخص کو عدالت سے انصاف ملنے میں 19 ماہ کا وقت لگ گیا، اس دوران وہ جیل میں قید رہا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ رہائی پانے والے شخص کیخلاف دائر کردہ کرمنل کیس جھوٹا نکلا، اس کیخلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ اس واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد شہریوں نے نظام انصاف کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متاثرہ شخص کے قیمتی 19 ماہ چھن جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments