چوہدری نثار کا حلف

اصغر خان عسکری

گزشتہ چند ہفتوں سے ملکی سیاست میں ایک شور ہے۔ ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ اخبارات میں سرخیاں جمائی جا رہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر بریکنگ نیوز کی پٹیاں چل رہی ہیں۔ کالم نگار اخبارات کے ادارتی صفحات پر عوام کو خبر دار کر رہے ہیں کہ کوئی تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔ سوشل میڈیا پر اخبارات اور ٹیلی ویژن سے بھی زیادہ پیشین گوئیاں ہو رہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کا بھی پسندیدہ موضوع آج کل یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما، سابق وفاقی وزیرداخلہ اور شریف خاندان کے معتمد خاص چوہدری نثار علی خان نے پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھالیا ہے۔

اب وفاق اور پنجاب میں ضرور کوئی تبدیلی آنے والی ہیں۔ وفاق کا تو معلوم نہیں لیکن عثمان بزدار کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ ان کی اب خیر نہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے جولائی 2018 ء کے قومی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب ہارا تھا جبکہ صوبائی سیٹ پر کامیاب ہوئے تھے، لیکن وہ صوبائی اسمبلی کا حلف لینے سے انکاری تھے۔ موقف ان کا یہ تھا کہ قومی اسمبلی کی نشست پر دھاندلی سے ان کو ہرایا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ گزشتہ پونے تین سال تک انھوں نے حلف کیوں نہیں اٹھایا؟ اب اچانک ایسا کیا ہوا کہ انھوں نے پنجاب اسمبلی کا حلف لینے کا فیصلہ کیا؟ 23 مئی کو جب وہ اسمبلی کا حلف لینے گئے تو ان سے حلف نہیں لیا گیا۔ وجہ ان کو یہ بتائی گئی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اور ڈپٹی سپیکر مصروف ہیں۔

حکومت پنجاب کی طرف سے اس نازیبا اور ناروا سلوک کے بعد لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے بعد چوہدری نثار علی خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ انھوں نے حلف اٹھانے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ حکومت ایک ایسا قانون لا رہی ہے کہ جس کے مطابق ہر اس رکن اسمبلی کی رکنیت منسوخ متصور ہوگی جو انتخاب جیتنے کے نوے دنوں کے بعد حلف نہ اٹھائے۔ انھوں نے کسی بھی سیاسی تخریب کاری میں شمولیت کو مسترد کیا اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کو ٹھنڈا کر کے کھانے کا مشورہ دیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ چوہدری نثار علی خان بغیر کسی سائے اور چھت کے دھوپ میں کھڑے ہو کر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سوال کا جواب تو چوہدری نثار علی خان نے دے دیا ہے کہ وہ صرف مجوزہ قانون کی ڈر کی وجہ سے حلف لے رہے ہیں۔ باقی وہ کسی مزید تبدیلی کا حصہ نہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ پنجاب اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بعد چوہدری نثار علی خان کسی کے لئے کوئی خطرہ ہے کہ نہیں یا ان کے حلف اٹھانے کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے؟ پنجاب اسمبلی میں اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف کی ارکان کی تعداد 181 ہے۔ دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے۔ جس کے ارکان کی تعداد 166 ہے۔ تیسری بڑی قوت پاکستان مسلم لیگ ہے۔ جس کی ارکان کی تعداد دس ہے۔

اس وقت وہ تحریک انصاف کی اتحادی بھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں 7 نشستیں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ چوہدری نثار سے سب بڑا خطرہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص کہ جو گزشتہ تین سالوں سے سیاست میں غیر فعال ہو۔ اسمبلی میں ان کے ساتھ کوئی ایک رکن نہیں۔ تحریک انصاف میں انھوں نے ابھی تک شمولیت کا اعلان کیا ہی نہیں تو وہ کیسے وزیر اعلی عثمان بزدار کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں؟

ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کبھی بھی ایک طاقتور کو پنجاب کا وزیر اعلی نامزد نہیں کریں گے وہ بھی ایسے وقت میں کہ سال بعد عام انتخابات کا نقارہ بجنے والا ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی اس پر راضی نہیں ہوں گے۔ رہی بات مسلم لیگ (ن) کی تو یہ بات یاد رہے کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ جب خاندان کا چشم و چراغ موجود ہے تو وہ کیوں چوہدری نثار علی خان پر راضی ہوں گے؟ پھر ان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ سیاسی طور پر کمزور عثمان بزدار کی بجائے سیاسی طور پر مضبوط چوہدری نثار علی خان کا ساتھ دیں۔

چوہدری نثار علی خان جتنا مقتدر حلقوں کے قریب ہے اتنا ہی چوہدری پرویز الہی بھی ہے۔ ان کے ساتھ اسمبلی کی دس نشستیں بھی ہیں۔ وہ پنجاب کے وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں تو وہ کیونکر راضی ہوں گے کہ چوہدری نثار علی خان پنجاب کے وزیر اعلی ہوں جبکہ وہ خود سپیکر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ یہ بات ضرور ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ہے لیکن پنجاب میں وہ سب سے ہلکے ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں میں کوئی بھی ایک جماعت ایسی نہیں کہ جو چوہدری نثار علی خان کا ساتھ دینے والی ہو۔ ابھی سال بعد عام انتخابات کی مہم شروع ہو جائے گی تو ایسے میں یہ ہو نہیں سکتا کہ مقتدر قوتیں ایک اور محاذ کھول دیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک اور محاذ آرائی شروع کردیں۔ ابھی پارٹی کے اندر جہانگیر ترین نے ان کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ شریف خاندان اور زرداری خاندان جیل سے باہر ہیں۔ اس صورت حال میں مقتدر قوتیں اور وزیر اعظم عمران خان کسی بھی طرح ایک اور محاذ کھول کر ہنگامہ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments