سانحہ ڈہرکی اور حکومتی رویہ

دنیا بھر میں سانحات رونما ہوتے رہتے ہیں. مگر ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے ان سانحات سے سبق سیکھتے ہیں. اور آیندہ کے لیے ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرتے ہیں. مگر ترقی پذیر اور غیر مہذب معاشرے اس کے برعکس کام کرتے ہیں. وہ سانحات سے کچھ سیکھنے اور آیندہ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی بجائے الزام تراشی کا کھیل کھیلنا شروع کر دیتے ہیں. جس سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا. الزام تراشی محض وقت گزاری کے لیے تو بہتر ہے. مگر یہ کسی بھی مسئلہ کا مستقل حل نہیں. پاکستان میں آئے روز سانحات رونما ہوتے ہیں. جن میں ہزاروں انسانی زندگیوں کا ضیاع ہو جاتا ہے. مگر ہمارے حکمران پیچھلی حکومتوں پر سارا ملبہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار کروانے کی جدوجہد کرتے ہیں. سانحہ کے رونما ہونے اور اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لیے کچھ نہیں کرتے. موجودہ حکومت کے عرصہ اقتدار کے دوران متعدد سانحات رونما ہوئے ہیں. جن میں بیش بہا قمیتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں. مگر ان سب پر انکوائری کمیشن بنا کر انہیں دبا دیا گیا ہے. شاید ہمارے حکمرانوں کے نزدیک انسانی زندگیوں کی کوئی قدرو قمیت نہیں. وہ ایک سانحہ کے رونما ہونے کے بعد دوسرے کا انتظار کرتے ہیں. کہ وہ کب رونما ہو گا. اس حکومت کے تین سالہ دور اقتدار کے دوران بارہ سے زائد ٹرین حادثات ہوئے ہیں. مگر ہر بار عوام کو یہ کہہ کر لولی پاپ دے دیا جاتا ہے. کہ اس واقعہ کی مکمل غیر جانبدار تحقیقات ہو گی. اور اس واقعہ کے ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی. مگر یہ بیان میٹھی گولی ہی ثابت ہوتی ہے. ہر بار کسی نچلے طبقہ کے ملازم کو قصور وار ٹھہرا کر کیس بند کر دیا جاتا ہے. جبکہ اصل قصور وار تو بڑے بڑے مگر مچھ ہوتے ہیں. جو اداروں کے ترقیاتی فنڈ کو بنا ڈکار مارے ہضم کر جاتے ہیں. ان مگر مچھوں سے کوئی نہیں پوچھتا. کیونکہ یہ سب لوگ قوم کی دولت کو مال غنیمت سمجھ کر آپس میں مل بانٹ کر کھاتے ہیں. اس لیے سب ایک دوسرے کے کانیں ہوتے ہیں. یہ باؤ ٹائپ لوگ ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں. موجودہ حکمران تو اس کھیل میں سب کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں. ان کے دور اقتدار میں جتنے بھی سانحات وقوع پذیر ہوئے ہیں. سبھی پر اس کے وزراء کی طرف سے ایسے ایسے بیانات داغے گئے ہیں. جن کو سن کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. کچھ عرصہ قبل کراچی میں قومی ائیر لائن کا طیارہ لیڈنگ کے دوران رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا. جس کے نتیجہ میں کئی خاندان اپنے پیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھے. مگر اس وقت کے وفاقی وزیر ہوا بازی نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر بیان دیا کہ یہ سانحہ جعلی پائلٹ کی وجہ سے رونما ہوا ہے. وزیر موصوف کےاس بیان کے بعد یورپین ممالک نے پاکستانی ائیر لائن پر اپنے ممالک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی. جس کی وجہ سے ایک طرف قومی ائیر لائن کو مالی خسارہ کا سامنا کرنا پڑا . دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی. گزشتہ برس ٹرین میں آتشزدگی کا واقع ہوا. جس میں ستر کے قریب انسان زندگیوں کی بازی ہار گئے. اس وقت کے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اس کا الزام تبلیغی جماعت کے ارکان پر عائد کر دیا. کہ وہ کھانا بنا رہے تھے. جس کی وجہ سے آتشزدگی ہوئی. جب کہ بعد میں تفتیشی ٹیم نے شارٹ سرکٹ کو اس حادثہ کا سبب قرار دیا. گزشتہ روز ڈہرکی کے مقام پر دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں. جس کے نتیجہ میں ساٹھ مسافر زندگیوں کی بازی ہار گئے. مگر حکومتی ترجمان اور وفاقی وزراء اس پر من گھڑت بیانات دیتے دیکھائے دیئے. وفاقی وزیر اطلاعات جن کو ریلوے کے محکمہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں وہ فرما رہے تھے کہ یہ سب کچھ ماضی کی حکومتوں کا کیا دھرا ہے. جس کا خمیازہ ہماری حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے. سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی غلطی کی وجہ سے موجودہ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی استعفیٰ کیوں دے. وزیر موصوف کو کوئی بتائے. کہ پچھلے تین سال سے آپ کی حکومت ہے. اور آپ کے موجودہ وزیر داخلہ پہلے وزیر ریلوے رہ چکے ہیں. جن کی وزارت کے دوران ریکارڈ حادثات ہوئے ہیں. جن کے انعام کے طور پر انہیں وزارت داخلہ دی گئی ہے. وہ بھی فرما رہے تھے کہ ہماری حکومت کے درمیان ایل ایم ون پر کام شروع ہو جائے گا. مگر کب تین سال تو آپ نے باتوں میں گزار دیئے ہیں. موجودہ وزیر ریلوے اعظم سواتی تو ڈھونڈنے سے بھی میڈیا کو نہیں مل رہے تھے. موجودہ حکومت کے ہر وزیر کو ٹی وی سکرین پر آنے کا بہت شوق ہے. وہ ہر وزرات کا ترجمان بن جاتا ہے. جب کہ ان سے اپنی اپنی وزارت سنبھالی نہیں جاتی . اس حکومت کا کوئی دشمن نہیں. یہ اپنی دشمن خود ہے. اہوزیشن میں تو اتنا دم خم نہیں کہ وہ موجودہ حکومت کو سخت ٹائم دے سکے. مگر حکومتی وزراء اور اس کے کرایہ کے ترجمان اس کے لیے خود کش بمبار ثابت ہو رہے ہیں. بنا سوچے سمجھے بیانات داغ دیتے ہیں. جس کے نتائج بعد میں وزیراعظم عمران خان کو بھگتنا پڑتے ہیں. اگر وزیر اعظم اپنے وزراء کی زبانوں کو تالا لگا دے تو ان کے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائے گے. حکومتی وزراء جتنی محنت خودنمائی پر صرف کرتے ہیں. اگر اس سے آدھی محنت عوامی مسائل کو حل کرنے پر بھی لگا دے. تو عوام کی عدالت میں سرخرو ہو سکتے ہیں. جب سے یہ حکومت آئی ہے. اس نے ایک پیسہ بھی ترقیاتی منصوبوں پر نہیں لگایا. سب کچھ کاغذوں میں ہی جمع خرچ کیا ہے. ہر شہر کی سڑکیں کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہیں. وزیراعظم عمران خان ماضی میں خود فرما چکے ہیں کہ قومیں سڑکیں تعمیر کرنے سے نہیں بنتی. اس لیے وہ عوام کو جدید ذرائع مواصلات دینے کو تیار نہیں. ریلوے، سڑکیں سب تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں. ایسے میں حادثات نہیں ہو گے. تو اور کیا ہو گا. حکومتی ترجیحات عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ مال بناؤ ہے. ہر وزیر و مشیر عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر رہا ہے. عوام تو ان کے لیے کیڑے مکوڑوں کی مانند ہیں. جو مرتی ہے تو مرتی رہے ان کی ذاتی تجوریاں بھرتی رہنی چاہیے. اگر آیندہ ایسے سانحات سےبچنا ہے. تو ذرائع مواصلات کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی. جس ملک کے ذرائع مواصلات دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گے. وہاں سانحات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہو گی. وزیراعظم پاکستان ذرائع مواصلات کو میاں محمد نواز شریف سے منصوب نہ کرے. وہ تو عوام کی بہتری کے لیے انہیں ترقی یافتہ بنا رہے تھے. آپ نے ان کی مخالفت میں ان ذرائع مواصلات کو بھی نست ونابود کر کے رکھ دیا ہے. آپ عوام سے ٹیکس کس بات کا لیتے ہیں. اگر انہیں مناسب سفری سہولیات ہی نہیں دے سکتے. خدارا عوام کی حالت زار پر رحم فرمائے . اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جدید سفری سہولیات بھی فراہم کریں.

کہیں سانحے ملیں گے کہیں حادثہ ملے گا.
ترے شہر کی فضا سے مجھے اور کیا ملے گا.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments