نہیں پتا تھا..!


نہیں پتا تھا..!
نہیں پتا تھا کہ چھوڑ دوگے
اکیلے مجھ کو
وفا کی رہ میں یوں چھوڑ دوگے
نہیں پتا تھا..!

نہیں پتا تھا
کہ سر مرا تم
چٹانِ فرقت کے پتھروں سے
یوں پھوڑ دوگے
نہیں پتا تھا..!

ہاں البتہ میں
یہ جانتا تھا
کہ دل تو ہوتا ہے گھر خدا کا
ہے یاں پے ہوتا بسر خدا کا
یہ جان کر بھی جگہ دی تم کو
ہاں! اپنے دل میں پناہ دی تم کو

مگر!!!  یہ ہرگز نہیں پتا تھا
کہ نکلو گے تم بڑے منافق
بڑے ہی فاجر بڑے ہی فاسق
مرے یقیں کو مروڑ دو گے
خدا کے گھر کو ہی توڑ دو گے
نہیں پتا تھا..!!

محمد اویس بلوچ
میرپور ماتھیلو

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments