بیت اللہ کرہَ ارض کا مرکز

تحریر۔مولانا محمد اکرم اعوان

اللہ کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کوکس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا وہ جس پر تھے;238; آپ کہہ دیں کہ مشرق

اور مغرب اللہ (ہی) کا ہے،وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ )علماء یہود و نصاریٰ نبی علیہ الصلوٰۃ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور من جملہ دیگر اعتراضات کے ایک اعتراض یہ تھا کہ قبلہ تو بیت المقدس تھا اور شروع میں حضور اکرم ﷺ کا قبلہ بھی وہی رہا، اب تبدیل کیو ں کر لیا;238;یہ کیا دین ہے کبھی کوئی قبلہ ہے کبھی کوئی ۔ اللہ کریم ان کے اس قول کے بارے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ قول ہی جہلا کا ہے ۔ بنیادی طور پر سوال جہالت ہوتا ہے اور جواب علم ہوتا ہے ۔ سوال اس لیے پوچھا جاتا ہے کہ بندہ نہیں جانتا اور جاننا چاہتا ہے ۔ جس کے پاس علم ہے وہ اس کے ذریعے جواب دیتا ہے ۔ ان لوگوں کا یہ قول طالب علمانہ نہیں بلکہ معترضانہ تھا،مبنی بر جہالت تھا اس لیے فرمایا گیا کہ یہ قول ہی جہلا کا ہے ۔ جواب علم ہوتا ہے اور سوال جہالت ہوتا ہے لیکن اعتراض تو بہت بڑی جہالت ہوتا ہے ۔ سوال ہوتا ہے کہ آدمی کو بات سمجھائی جائے تو اس کی سمجھ میں آجائے لیکن اعتراض نہ ماننے کے لیے اور جھگڑا کھڑا کرنے لیے ہوتا ہے ۔

عرصہ قدیم سے بنی اسرائیل کا قبلہ بیت المقدس آرہا تھا اور قبلہ کے معنی ہیں سمت،نہ تو مسجد اقصیٰ معبود تھی اور نہ بیت اللہ شریف معبود ہے ۔ مسلمان اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتے ہیں ۔ بیت المقدس کی اپنی عظمت تھی ۔ یہ مسجد سیدنا سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کرائی اللہ کی تجلیا ت و برکات کا مرکز تھی ۔ جب اس کی تعمیر ہوئی تو انبیاء علیہم السلام نبی اسرائیل میں سے آئے اور ان کی ریاستیں بھی وہاں تھیں ۔ وہ نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے اور ان کے دارلخلافے بھی وہاں تھے ۔ ان لوگوں کی اکثریت شاید بیت اللہ سے واقفیت بھی نہ تھی ۔ رب جلیل نے ان کے لیے مسجد اقصیٰ کو قبلہ مقرر کر دیا یعنی اسے عبادت کی سمت مقرر کر دیا ۔ اس وقت جہاں بھی کوئی کلمہ گو ہوتا، وہ بیت المقدس کی سمت منہ کر کے عبادت کر تا کہ ایک یک رنگی، یکجہتی اور نظم پیدا ہوجائے ۔ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے لیکن لوگوں میں اخوت،اسلامی بھائی چارہ اور یک رنگی پیداکرنے کے لیے بیت المقدس کو قبلہ مقرر فرمادیا گیا جب نبی علیہ الصلوٰۃ مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ نے بھی اسی قبلہ کی پیروی اختیار فرمائی چوں کہ وہ قبلہ مقرر تھا ۔ یہ اس مسجد کا بہت بڑا مرتبہ تھا جو اللہ نے اسے بخشا ۔

اسلام جوڑنے کا مذہب ہے ۔ انسانوں کو انسانوں سے،انسانوں کو اپنے مالک سے، اپنے اللہ سے ، اپنے معبود ے جوڑتا ہے ۔ اسلام دنیا کے تما م مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے ۔ اسلام دنیا کے تمام غیرمسلموں کو بھی حقوق عطا کر تا ہے ان کی جان کی حفاظت کرتا ہے، ان کے مال کی حفاظت کرتا ہے،ان کی آبرو کی حفاظت کرتا ہے یعنی اسلام ایک دنیا وی بھائی چارے مذہب ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی ہے ۔ اگر ایک غیر مسلم حقوق اللہ کا خیال نہیں کرتا تو اس کا جواب وہ خود اللہ کریم کے سامنے دے گا لیکن مسلمان اس کے حقوق کی حفاظت کریں گے اور اسے پورے پورے انسانی حقوق بھی حاصل ہوں گے ۔ اسلام جب عالمگیر بھائی چارے کی بات کرتا ہے تو سب سے پہلے اور سب سے اعلیٰ تو اللہ کی عبادت ہے، فراءض ہیں اور اگر فراءض میں ہی یک رنگی نہ ہو تواخوت اور بھائی چارے کی بنیاد کہاں ہوگی! کوئی مشرق کو منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہے ، کوئی مغرب کو منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہے ،کوئی شمال کو، غرض جس سمت کسی کو خیال آیا، اس طرف منہ کرلیا تو عبادت میں یک رنگی کہاں ہوگی ۔ سوربِ جلیل نے ایک مقام کو مرکز قرار دے دیا کہ روئے زمین کے مسلمان اس کی سمت منہ کرکے نماز اد ا کریں گے ۔ اب یہ فیصلہ رب العالمین کا تھا بیت اللہ شریف قبلہ مقرر ہوا ۔

یہ اللہ کی عطا ہے کہ دنیا کا نقشہ سب سے پہلے مسلمانوں نے بنایا اور زمین میں پیمائش بھی مسلمانوں نے کی ۔ مسلمانوں نے دنیا کا جو نقشہ بنایا اس میں سمتوں کا تصور موجود سمتوں کے تصور سے متضاد تھایعنی زمین کو انھوں نے اس طرح تقسیم کیا تھا کہ جسے آج ہم قطب جنوبی سمجھتے ہیں ،مسلمانوں کے نقشے میں یہ شمال تھا اور قطب شمالی جنوب تھا ۔ یورپین نے اسے جنوب اور اس کو شمال کردیا لیکن اگر شمال اِدھر تھا،جنوب اُدھر تھا تو بیت اللہ ہی مرکز تھا اور اگر سمتوں کے نام تبدیل کردیے گئے،شمال کو جنوب اور جنوب کو شمال کہنے لگے تو بھی بیت اللہ کی حیثیت نہیں بدلی ۔ آج بھی وہ مرکز ہے روئے زمین کی پیمائش جس طرف سے کریں ، مرکز بیت اللہ شریف ہی بنتا ہے ۔ کعبۃ اللہ وہ نقطہ ہے جسے اللہ کریم نے سب سے تخلیق فرمایا جبکہ باقی سارا پانی ہی پانی تھا ۔ حطیم سمیت جتنا بیت اللہ ہے، بیت اللہ ہے،یہاں سے زمین پھیلائی گئی او ر یہ مستقل مرکز رہا،تجلیاتِ الٰہی کا مہبط رہا ،روز اوّل سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ۔ بیت اللہ شریف کی عظمت یہ ہے کہ جہاں بیت کی چار دیواری ہے، تحت الثریٰ تک بیت اللہ ہے عرش عُلیٰ تک بیت اللہ ہے ۔ اس چار دیواری کے اورپر دوسری عمارت نہیں بن سکتی ہے، اس کے نیچے کوئی دوسری عمارت نہیں بن سکتی ۔ تحت الثریٰ لے کے عرش عُلیٰ تک بیت اللہ ہے ،قبلہ ہے مرکز ہے اور اللہ کی ذاتی تجلیات کا مہبط ہے ۔ اہل نظر فرماتے ہیں نویں عرش سے لے کر زمین کو چیرتا ہوا دوسری طرف نویں عرش تک انوارات و تجلیات کا ایک سمندر چلا جاتا ہے جو سارا بیت اللہ گزرتا ہے ۔ جہاں بیت اللہ شریف ہے، زیر زمین بھی جہاں تک چلے جائیں تو بیت اللہ ہی ہے اور بالائے آسمان بھی چلے جائیں تو بیت اللہ ہے ۔ اس کے انوارات اور اس کی برکا ت موجود ہیں ۔

بیت اللہ کے انوارات کا عالم یہ ہے مجھے دورہ امریکہ کے دوران اُردن کے ایک شخص نے جو مصر کی فوج میں فاءٹر پائلٹ تھا بتایا کہ اسرائیل اور مصر کی جنگ کے دوران انھیں حکم تھا کہ کبھی بھی بیت اللہ کے عین اوپر جہاز مت لے جائیں ۔ جب بھی جہاز خواہ وہ ہزاروں ، لاکھوں فٹ اونچا ہو ، غلطی سے بیت اللہ کے عین اوپر آجاتا ہے تو اس کے سارے میٹر گڑبڑ ہوجاتے تھے ۔ کوئی سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کرنا ہے اور کہاں جاناہے ۔ اس قدر انوارات ہوتے ہیں کہ مادی چیزوں کو بھی متاثر کرتے ہیں جیسے وہ جہاز کسی بجلی میں گھس گیا ہوں آج بھی کوئی جہاز بیت اللہ شریف کے عین اوپر سے نہیں گزرتا ۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments