کپڑے دھونے کے دوران کی جانے والی ایسی غلطیاں جو آپ کو سب کے سامنے شرمندگی سے دوچار کرسکتی ہیں

 ہیں

 صاف ستھرے دھلے ہوئے چمکتے ہوئے کپڑے ہر ایک کو پہننا پسند ہوتا ہے مگر ان کو دھونے کے لیے کچھ خاص ہاتھ ہی منتخب ہوتے ہیں ہمارے گھرانوں میں کپڑے دھونے کی ذمہ داری اگرچہ ایک کٹھن ذمہ داری ہے مگر وہ خاتون خانہ کے نازک کاندھوں پر ہی ہوتی ہے- کپڑے دھونے کے دوران کی جانے والی غلطیاںخاتون خانہ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کپڑوں کو بہتر سے بہتر انداز میں دھوئیں کیوں کہ یہ ان کے سگھڑ پن کا عکاس ہوتے ہیں بدرنگ کپڑے پہن کر کام پر جاتا آدمی یا اڑے ہوئے رنگ کا یونیفارم پہن کر جاتا ہوا بچہ نہ صرف برا لگتا ہے بلکہ شرمندگی کا بھی باعث ہوتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو کچھ ایسی غلطیوں کے بارے میں بتائیں گے جو اگرچہ نادانستگی میں کی جاتی ہیں مگر کپڑوں کی حالت خراب کر دیتی ہیں- زیادہ گرم پانی میں کپڑے دھونااکثر خواتین کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ زیادہ گرم پانی میں کپڑے دھونے سے کپڑے زیادہ صاف ہو جاتے ہیں جب کہ یہ غلط ہے زيادہ گرم پانی مین کپڑے اپنا رنگ کھو دیتے ہیں اور بدرنگ ہو جاتے ہیں- بہت گرم پانی صرف تولیے دھونے کے لیے بہتر ہوتا ہے تاکہ ان کو جراثیم سے پاک کیا جاسکے اس کے علاوہ عام کپڑوں کو صاف کرنے کے لیے ایک اچھا ڈٹر جنٹ اور نیم گرم پانی ہی کافی ہوتا ہے- 

 مشین میں بہت سارے الگ الگ رنگ کے کپڑے دھونااکثر خواتین جلدی جلدی میں کم میلے اور زيادہ دھبوں والے کپڑے ایک ہی وقت میں مشین میں ڈال دیتی ہیں اس دوران وہ اس بات کا بھی خیال نہیں کرتی ہیں کہ یہ کپڑے الگ الگ رنگ کے ہیں اور ایک کا رنگ دوسرے کپڑے پر چڑھ کر اس کو خراب کر سکتا ہے- یہی وجہ ہوتی ہے کہ دھلنے کے بعد وہ کپڑے اپنا اصل رنگ کھو دیتے ہیں اور بدرنگ ہو کر شرمندگی کا سبب بنتے ہیں- بہت زیادہ ڈٹرجنٹ کا استعمالزیادہ ڈٹرجنٹ کا استعمال کپڑوں کو جلدی صاف کرنے کا سبب نہیں بنتا ہے اس کے بجائے وہ کپڑوں میں اندر تک دھنس جاتا ہے اور پانی میں بہت بار کھنگالنے کے باوجود کپڑوں میں ڈٹرجنٹ کے ذرات رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے کپڑوں کا رنگ ماند پڑ جاتا ہے- اس کے علاوہ ان میں ایک سختی بھی آجاتی ہے دھلے ہوئے کپڑوں میں ڈٹرجنٹ کے ذرات کی موجودگی نہ صرف کپڑوں کے رنگ کو خراب کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ جلد کے لیے بھی مضر ہوتی ہے اس سے جلد پر خارش ہو سکتی ہے- لہٰذا ڈٹرجنٹ کا استعمال ہمیشہ ایک پیمانے کے ساتھ ہمیشہ مقررہ مقدار میں کریں اس سے ایک جانب تو پیسے بچ سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کپڑوں کا رنگ بھی خراب نہیں ہوتا ہے- پتلے اور نازک کپڑوں کو واشنگ مشین میں دھونایاد رکھیں ہر کپڑا مشین میں دھونے کے لیے نہیں ہوتا ہے ۔ نازک بنیانی کپڑے یا لان وغیرہ کے سوٹ جب مشین میں ڈالے جاتے ہیں تو اس سے وہ کھچ کر اپنی شکل کھو دیتے ہیں اس وجہ سے ایسے کپڑوں کو ہاتھ پر دھونا ان کی زندگی کو بڑھا سکتا ہے- بلیچ کا استعمالکپڑوں کو جلد صاف کرنے اور داغ دھبوں کو دور کرنے کے لیے بلیچ اگرچہ کئی حوالوں سے مفید ہوتا ہے مگر یہ بلیچ سوتی سفید کپڑوں کو اگر ایک جانب نئی چمک دیتی ہے تو دوسری طرف اس کا استعمال رنگین کپڑوں کے رنگ کو خراب بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نازک کپڑوں کی زندگی کو یہ بلیچ آدھی کر دیتی ہے اور ایک دو بار دھونے کے بعد ہی وہ پھٹنا شروع ہو جاتے ہیں- 

 نیل کا غلط استعمالاکثر خواتین سفید کپڑوں کی رنگت کو بہتر کر نے کے لیۓ کرتی ہیں لیکن اگر ان کی مقدار پانی میں زیادہ ہو یا اس کو پانی میں صحیح طرح سے مکس نہ کیا جائے تو اس سے سفید کپڑوں پر نیلے دھبے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں جو دیکھنے میں بہت برے لگتے ہیں- یاد رکھیں!کپڑوں کی دھلائی میں کی جانے والی یہ غلطیاں ایک جانب تو آپ کی محنت ضائع کر دیتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ وقت اور پیسے کے زیاں کا بھی باعث ہو سکتی ہیں-

Source-https://hamariweb.com/articles/145568

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments